Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بلال اختر کے اشعار

منتظر ہیں کہ کبھی لوٹ بھی سکتا ہے وہ شخص

ہم نے دیوار پہ اک دیپ جلا رکھا ہے

تو جس کے دم پر بھی بولتا ہے

مرے خدا سے بڑا نہیں ہے

جو خزاں کے تھے پیروکار میاں

جاتے جاتے بہار چھوڑ گئے

گھر کی چوکھٹ پہ آئے مفلس کی

ہر صدا بس صدا نہیں ہوتی

ہجر نامی وہ اژدہا اخترؔ

اب بھی سینے میں پل رہا ہے مرے

ایک تصویر میرے کمرے کا

کونا کونا گلال کرتی ہے

مجھے اس نے کہا بے کار ہوں میں

سو خود کو رائیگاں رکھا ہوا ہے

ہم اپنی اپنی محبت کو لاکھ بھول چکے

مگر یہ بات ہمارے ہی درمیان رہے

وقت کی گردشیں بتاتی ہیں

اب زمیں آسماں سے دور نہیں

Recitation

بولیے