بلال اختر کے اشعار
منتظر ہیں کہ کبھی لوٹ بھی سکتا ہے وہ شخص
ہم نے دیوار پہ اک دیپ جلا رکھا ہے
تو جس کے دم پر بھی بولتا ہے
مرے خدا سے بڑا نہیں ہے
جو خزاں کے تھے پیروکار میاں
جاتے جاتے بہار چھوڑ گئے
گھر کی چوکھٹ پہ آئے مفلس کی
ہر صدا بس صدا نہیں ہوتی
ہجر نامی وہ اژدہا اخترؔ
اب بھی سینے میں پل رہا ہے مرے
ایک تصویر میرے کمرے کا
کونا کونا گلال کرتی ہے
مجھے اس نے کہا بے کار ہوں میں
سو خود کو رائیگاں رکھا ہوا ہے
ہم اپنی اپنی محبت کو لاکھ بھول چکے
مگر یہ بات ہمارے ہی درمیان رہے