Chakbast Brij Narayan's Photo'

چکبست برج نرائن

1882 - 1926 | لکھنؤ, ہندوستان

ممتاز قبل از جدید شاعر۔ راماین پر اپنی نظم کے لئے مشہور۔ ضرب المثل شعر زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب۔ موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا، کے خالق

ممتاز قبل از جدید شاعر۔ راماین پر اپنی نظم کے لئے مشہور۔ ضرب المثل شعر زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب۔ موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا، کے خالق

3.25K
Favorite

باعتبار

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے

مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں

اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی

اس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ہیں

گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف

سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے

ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہے

ساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہے

مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا

لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے

نیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسم شہادت سے

بتا دے تو ہی اے ظالم تڑپنے کی ادا کیا ہے

جو تو کہے تو شکایت کا ذکر کم کر دیں

مگر یقیں ترے وعدوں پہ لا نہیں سکتے

خدا نے علم بخشا ہے ادب احباب کرتے ہیں

یہی دولت ہے میری اور یہی جاہ و حشم میرا

اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیں

مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

زبان حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے

مٹایا گردش افلاک نے جاہ و حشم میرا

یہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں

شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

عزیزان وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا

خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا

کیا ہے فاش پردہ کفر و دیں کا اس قدر میں نے

کہ دشمن ہے برہمن اور عدو شیخ حرم میرا

ہے مرا ضبط جنوں جوش جنوں سے بڑھ کر

ننگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

چراغ قوم کا روشن ہے عرش پر دل کے

اسے ہوا کے فرشتے بجھا نہیں سکتے

لکھنؤ میں پھر ہوئی آراستہ بزم سخن

بعد مدت پھر ہوا ذوق غزل خوانی مجھے

منزل عبرت ہے دنیا اہل دنیا شاد ہیں

ایسی دلجمعی سے ہوتی ہے پریشانی مجھے