Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dharmesh Solanki's Photo'

دھرمیش سولنکی

جام نگر, انڈیا

دھرمیش سولنکی کے اشعار

بچھڑنے والے جن میں پھر سے مل جائیں

وہ فلمیں دیکھنی ہی چھوڑ دی ہیں

بارش کے دن نظر یہاں پل بھر نہ آتا میں

وہ میرے ساتھ ہوتی تو دفتر نہ آتا میں

تجھ سے شب بھر کلام کرنے کو

ایک تصویر تیری کافی ہے

پہلے تو بربادیوں کا جشن ہونا چاہیئے

بعد میں آرام سے اچھے سے رونا چاہیئے

بھولنا اس لیے مشکل نہیں لگتا مجھ کو

میرے سینے میں یہ دل دل نہیں لگتا مجھ کو

عمر بھر اپنے اصولوں پہ ہی چلتا آیا

سب گراتے رہے مجھ کو میں سنبھلتا آیا

دغا دے کر مجھے وہ بے وفا تا عمر روئی

کسی کا دل دکھا کر خوش نہیں رہ سکتا کوئی

مرے کمرے کی بتی بند ہو تو تیرے ہاتھوں سے

وگرنہ چھت پہ تارے دیکھ کر ہی عمر گزرے گی

تمہیں کچھ سال لینے چاہئیں انکار کرنے میں

ہمیں عمریں لگی ہیں جرأت اظہار کرنے میں

Recitation

بولیے