فیض عالم بابر کے اشعار
پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے
خود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دیکھتا ہے کون بابرؔ کس کا کیا کردار ہے
جس سے جو منسوب قصہ ہو گیا تو ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میرے اندر بھی خلا ہے تیرے اندر بھی خلا
اس خلا سے اس خلا تک ہے فضا تنہائی کی
تنگ ہوتا جائے گا دنیا کا تجھ پر دائرہ
جتنا اپنے آپ میں حساس ہوتا جائے گا
اک خواب ہوں لیکن مجھے حسرت میں بدل کر
آنکھوں میں نہیں دل میں جگہ دی ہے کسی نے
میں خدا ہوں نہ کبھی مجھ کو خدا بننا ہے
مجھ میں وحدت کی کمی ہے تو کمی رہنے دو
جگہ جگہ تھے بھنور عشق کے سمندر میں
وہ خود بھی ڈوب گیا تھا مجھے بچاتے ہوے
ہر مسافر کو کب ملی منزل
ہر مسافر پہ کب غبار کھلا
راز مجھ پر کھل گیا ہے خالق و مخلوق کا
میں پکارے جا رہا ہوں اور خدا خاموش ہے
پاسبانی کرتے کرتے اس کی آنکھیں بجھ گئیں
عمر بھر جو خواہش تعمیر در کرتا رہا
منتقل ہوتا ہے لیکن وہ کبھی مرتا نہیں
جو صدائے کن سے پیدا ہو گیا تو ہو گیا
غزل کی نت نئے انداز سے تزئین کرتا ہوں
سخن دنیا میں غالبؔ کی طرح کا جدتی ہوں میں
یہ واہ واہ کی آواز سے کھلا بابرؔ
سخن وخن ہے تسلی ہنر ونر ہے فریب