Fani Badayuni's Photo'

فانی بدایونی

1879 - 1941 | بدایوں, انڈیا

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

فانی بدایونی

غزل 94

نظم 1

 

اشعار 84

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے

کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

  • شیئر کیجیے

ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر

آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

ہر مصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب

اس طرح گردش دوراں کو رلایا میں نے

  • شیئر کیجیے

رباعی 3

 

کتاب 40

تصویری شاعری 7

 

ویڈیو 15

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

ماہر القادری

Chale bhi aao yeh hai qabr e fani

چترا سنگھ

hosh e hasti se to begana banaya hota

مہدی حسن

Ibtedaa-e-Zindagi

نامعلوم

Kamla Devi singing Fani Badayuni

نامعلوم

Kuch Hosh Ganwane ke churche

مہدی حسن

Shouq Se Nakami Ki Badaulat

نامعلوم

ye maikhana hai bazm-e-jam nahi hai

بیگم اختر

خدا اثر سے بچائے اس آستانے کو

نامعلوم

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا

حامد علی خان

شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ_دل ہی چھوٹ گیا

نامعلوم

ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا

نیرہ نور

مآل_سوز_غم_ہائے_نہانی دیکھتے جاؤ

نامعلوم

میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں

مہران امروہی

آڈیو 34

آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ

آہ اب تک تو بے_اثر نہ ہوئی

اب لب پہ وہ ہنگامۂ_فریاد نہیں ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"بدایوں" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے