Farhat Abbas's Photo'

فرحت عباس

1956 | لاہور, پاکستان

فرحت عباس کی اشعار

618
Favorite

باعتبار

ہار جائے گی زندگی لیکن

ہارنے کا نہیں مرا یہ عشق

ہر طرف دوستی کا میلہ ہے

پھر بھی ہر آدمی اکیلا ہے

جسے بھی دوست بنایا وہ بن گیا دشمن

یہ ہم نے کون سی تقصیر کی سزا پائی

کس سادگی سے وہ بھی دغا دے گیا مجھے

جس شخص نے کہا تھا کبھی دیوتا مجھے

میرے ہر ایک سچ پہ انہیں جھوٹ کا گماں

کرتا ہے بد گمان خدا خیر ہی کرے

فرحتؔ سناؤں کس کو کہانی میں گاؤں کی

گھر گھر میں زندہ لاشیں تھیں مجبور ماؤں کی

میں عقیدت میں نعت لکھتا ہوں

میں حقیقت میں نعت لکھتا ہوں

تیرے سانچے میں ڈھل گیا آخر

شہر سارا بدل گیا آخر

چہرے بدل بدل کے کہانی سنا گئے

درد و الم فراق مری جاں کو آ گئے

پھیلے ہیں سارے شہر میں قصے عجیب سے

گزرا ہے جب بھی پھول سا چہرہ قریب سے

تم اسے لے چلو لب کوثر

اے فرشتو یہ کربلائی ہے

اک دوسرے سے خوف کی شدت تھی اس قدر

کل رات اپنے آپ سے میں خود لپٹ گیا

وہ میرے بخت کی تحریر کیوں نہیں بنتا

وہ میرا خواب ہے تعبیر کیوں نہیں بنتا

شہر کا شہر مری جاں کی طلب رکھتا ہے

آج سوچا ہے یہی جان کا صدقہ دے دوں

دونوں لازم ہیں لا زوال بھی ہیں

اک ترا حسن اک مرا یہ عشق

یہ کائنات آج بھی منسوب آپ سے

یہ کائنات آج بھی جاگیر آپ کی

زلزلوں کی نمود سے فرحتؔ

مستقر مستقر نہیں رہتے

رقص کرتے ہوئے بگولوں میں

ماتمی شور بھی ہوا کا ہے

تعمیر کر گئے کبھی مسمار ہو گئے

لمحے مری اٹھان کو دیوار کر گئے

لاکھ اجزا میں ہو گیا تقسیم

کیا عجب مجتمع ہوا فرحتؔ

بے تابیٔ اظہار نے یوں خاک کیا ہے

دزدیدہ نگاہی نے مجھے چاک کیا ہے

دن نکلتے ہی بدن پر حبس کی یورش ہوئی

رات بھر سوچوں کے پتھراؤ سے سر جلتا رہا

بات اہل جنوں کی کیا سمجھے

وہ خرد جو کڑے زیان میں ہے