فگار اناوی کی اشعار

975
Favorite

باعتبار

دل ہے مرا رنگینیٔ آغاز پہ مائل

نظروں میں ابھی جام ہے انجام نہیں ہے

فضا کا تنگ ہونا فطرت آزاد سے پوچھو

پر پرواز ہی کیا جو قفس کو آشیاں سمجھے

کیا ملا عرض مدعا سے فگارؔ

بات کہنے سے اور بات گئی

ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی

رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

ان پہ قربان ہر خوشی کر دی

زندگی نذر زندگی کر دی

غم و الم سے جو تعبیر کی خوشی میں نے

بہت قریب سے دیکھی ہے زندگی میں نے

اک تیرا آسرا ہے فقط اے خیال دوست

سب بجھ گئے چراغ شب انتظار میں

بقدر ذوق میرے اشک غم کی ترجمانی ہے

کوئی کہتا ہے موتی ہے کوئی کہتا ہے پانی ہے

دل مرا شاکیٔ جفا نہ ہوا

یہ وفادار بے وفا نہ ہوا

کسی سے شکوۂ محرومئی نیاز نہ کر

یہ دیکھ لے کہ تری آرزو تو خام نہیں

پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی

کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی

ایک خواب و خیال ہے دنیا

اعتبار نظر کو کیا کہئے

حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی

جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ

عجیب کشمکش ہے کیسے حرف مدعا کہوں

وہ پوچھتے ہیں حال دل میں سوچتا ہوں کیا کہوں

شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے

مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے

دل چوٹ سہے اور اف نہ کرے یہ ضبط کی منزل ہے لیکن

ساغر ٹوٹے آواز نہ ہو ایسا تو بہت کم ہوتا ہے

چھپ گیا دن قدم بڑھا راہی

دور منزل ہے مفت رات نہ کر

مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل

ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے

آداب عاشقی سے تو ہم بے خبر نہ تھے

دیوانے تھے ضرور مگر اس قدر نہ تھے

قدم قدم پہ دونوں جرم عشق میں شریک ہیں

نظر کو بے خطا کہوں کہ دل کو بے خطا کہوں

دیوانے کو مجاز و حقیقت سے کیا غرض

دیر و حرم ملے نہ ملے تیرا در ملے

دل کی بنیاد پہ تعمیر کر ایوان حیات

قصر شاہی تو ذرا دیر میں ڈھ جاتے ہیں

ہیں یہ جذبات مرے درد بھرے دل کے فگار

لفظ بن بن کے جو اشعار تک آ پہنچے ہیں

کس کام کا ایسا دل جس میں رنجش ہے غبار ہے کینہ ہے

ہم کو ہے ضرورت اس دل کی سب جس کو کہیں آئینہ ہے

ترے غم کے سامنے کچھ غم دو جہاں نہیں ہے

ہے جہاں ترا تصور وہاں این و آں نہیں ہے

سر محفل ہمارے دل کو لوٹا چشم ساقی نے

ادھر تقدیر گردش میں ادھر گردش میں جام آیا

میری جبین شوق نے سجدے جہاں کئے

وہ آستاں بنا جو کبھی آستاں نہ تھا

قدم اپنے حریم ناز میں اس شوق سے رکھنا

کہ جو دیکھے مرے دل کو تمہارا آستاں سمجھے

یقین وعدۂ فردا ہمیں باور نہیں آتا

زباں سے لاکھ کہئے آپ کے تیور نہیں کہتے

کعبے میں ہو یا بت خانے میں ہونے کو تو سر خم ہوتا ہے

ہوتا ہے جہاں تو جلوہ نما کچھ اور ہی عالم ہوتا ہے

پرتو حسن سے ذرے بھی بنے آئینے

کتنے جلوے کئے ارزاں تری رعنائی نے

کعبہ بھی گھر اپنا ہے صنم خانہ بھی اپنا

ہر حسن کا جلوہ مرا ایمان نظر ہے

محفل کون و مکاں تیری ہی بزم ناز ہے

ہم کہاں جائیں گے اس محفل سے اٹھ جانے کے بعد