noImage

فگار اناوی

اناو, ہندوستان

222
Favorite

باعتبار

غم و الم سے جو تعبیر کی خوشی میں نے

بہت قریب سے دیکھی ہے زندگی میں نے

ان پہ قربان ہر خوشی کر دی

زندگی نذر زندگی کر دی

بقدر ذوق میرے اشک غم کی ترجمانی ہے

کوئی کہتا ہے موتی ہے کوئی کہتا ہے پانی ہے

ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی

رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

کیا ملا عرض مدعا سے فگارؔ

بات کہنے سے اور بات گئی

دل مرا شاکیٔ جفا نہ ہوا

یہ وفادار بے وفا نہ ہوا

کسی سے شکوۂ محرومئی نیاز نہ کر

یہ دیکھ لے کہ تری آرزو تو خام نہیں

اک تیرا آسرا ہے فقط اے خیال دوست

سب بجھ گئے چراغ شب انتظار میں

ایک خواب و خیال ہے دنیا

اعتبار نظر کو کیا کہئے

پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی

کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی

حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی

جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ

قدم قدم پہ دونوں جرم عشق میں شریک ہیں

نظر کو بے خطا کہوں کہ دل کو بے خطا کہوں

شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے

مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے

عجیب کشمکش ہے کیسے حرف مدعا کہوں

وہ پوچھتے ہیں حال دل میں سوچتا ہوں کیا کہوں

دیوانے کو مجاز و حقیقت سے کیا غرض

دیر و حرم ملے نہ ملے تیرا در ملے

چھپ گیا دن قدم بڑھا راہی

دور منزل ہے مفت رات نہ کر

دل چوٹ سہے اور اف نہ کرے یہ ضبط کی منزل ہے لیکن

ساغر ٹوٹے آواز نہ ہو ایسا تو بہت کم ہوتا ہے

دل کی بنیاد پہ تعمیر کر ایوان حیات

قصر شاہی تو ذرا دیر میں ڈھ جاتے ہیں

قدم اپنے حریم ناز میں اس شوق سے رکھنا

کہ جو دیکھے مرے دل کو تمہارا آستاں سمجھے

آداب عاشقی سے تو ہم بے خبر نہ تھے

دیوانے تھے ضرور مگر اس قدر نہ تھے

ترے غم کے سامنے کچھ غم دو جہاں نہیں ہے

ہے جہاں ترا تصور وہاں این و آں نہیں ہے

کعبے میں ہو یا بت خانے میں ہونے کو تو سر خم ہوتا ہے

ہوتا ہے جہاں تو جلوہ نما کچھ اور ہی عالم ہوتا ہے

کس کام کا ایسا دل جس میں رنجش ہے غبار ہے کینہ ہے

ہم کو ہے ضرورت اس دل کی سب جس کو کہیں آئینہ ہے

میری جبین شوق نے سجدے جہاں کئے

وہ آستاں بنا جو کبھی آستاں نہ تھا

فضا کا تنگ ہونا فطرت آزاد سے پوچھو

پر پرواز ہی کیا جو قفس کو آشیاں سمجھے

مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل

ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے

کعبہ بھی گھر اپنا ہے صنم خانہ بھی اپنا

ہر حسن کا جلوہ مرا ایمان نظر ہے

سر محفل ہمارے دل کو لوٹا چشم ساقی نے

ادھر تقدیر گردش میں ادھر گردش میں جام آیا

ہیں یہ جذبات مرے درد بھرے دل کے فگار

لفظ بن بن کے جو اشعار تک آ پہنچے ہیں

دل ہے مرا رنگینیٔ آغاز پہ مائل

نظروں میں ابھی جام ہے انجام نہیں ہے

یقین وعدۂ فردا ہمیں باور نہیں آتا

زباں سے لاکھ کہئے آپ کے تیور نہیں کہتے

پرتو حسن سے ذرے بھی بنے آئینے

کتنے جلوے کئے ارزاں تری رعنائی نے

محفل کون و مکاں تیری ہی بزم ناز ہے

ہم کہاں جائیں گے اس محفل سے اٹھ جانے کے بعد