noImage

گویا فقیر محمد

1784 - 1850 | لکھنؤ, انڈیا

ناسخ کے شاگرد،مراٹھا حکمراں یشونت رائو ہولکر اور اودھ کے نواب غازی الدین حیدرکی فوج کے سپاہی

ناسخ کے شاگرد،مراٹھا حکمراں یشونت رائو ہولکر اور اودھ کے نواب غازی الدین حیدرکی فوج کے سپاہی

گویا فقیر محمد

غزل 22

اشعار 25

بجلی چمکی تو ابر رویا

یاد آ گئی کیا ہنسی کسی کی

  • شیئر کیجیے

اے جنوں ہاتھ جو وہ زلف نہ آئی ہوتی

آہ نے عرش کی زنجیر ہلائی ہوتی

  • شیئر کیجیے

نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور

جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے

اپنے سوا نہیں ہے کوئی اپنا آشنا

دریا کی طرح آپ ہیں اپنے کنار میں

نہیں بچتا ہے بیمار محبت

سنا ہے ہم نے گویاؔ کی زبانی

کتاب 11

آڈیو 6

حسرت اے جاں شب_جدائی ہے

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں

نظارۂ_رخ_ساقی سے مجھ کو مستی ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے