noImage

گویا فقیر محمد

1784 - 1850 | لکھنؤ, ہندوستان

ناسخ کے شاگرد،مراٹھا حکمراں یشونت رائو ہولکر اور اودھ کے نواب غازی الدین حیدرکی فوج کے سپاہی

ناسخ کے شاگرد،مراٹھا حکمراں یشونت رائو ہولکر اور اودھ کے نواب غازی الدین حیدرکی فوج کے سپاہی

گویا فقیر محمد کی اشعار

375
Favorite

باعتبار

بجلی چمکی تو ابر رویا

یاد آ گئی کیا ہنسی کسی کی

اے جنوں ہاتھ جو وہ زلف نہ آئی ہوتی

آہ نے عرش کی زنجیر ہلائی ہوتی

نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور

جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے

نقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو

مر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر

نہیں بچتا ہے بیمار محبت

سنا ہے ہم نے گویاؔ کی زبانی

اپنے سوا نہیں ہے کوئی اپنا آشنا

دریا کی طرح آپ ہیں اپنے کنار میں

نہ مر کے بھی تری صورت کو دیکھنے دوں گا

پڑوں گا غیر کی آنکھوں میں وہ غبار ہوں میں

زاہدو قدرت خدا دیکھو

بت کو بھی دعوی خدائی ہے

ناصحا عاشقی میں رکھ معذور

کیا کروں عالم جوانی ہے

سارے قرآن سے اس پری رو کو

یاد اک لفظ لن ترانی ہے

وہ طفل نصیری آئے شاید

قسمیں دوں مرتضیٰ علی کی

گیا ہے کوچۂ کاکل میں اب دل

مسلماں وارد ہندوستاں ہے

جامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل

پیرہن اپنا قبا کرتے ہیں

ضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر

آپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم

در پہ نالاں جو ہوں تو کہتا ہے

پوچھو کیا چیز بیچتا ہے یہ

خار چبھ کر جو ٹوٹتا ہے کبھی

آبلہ پھوٹ پھوٹ روتا ہے

آسماں کہتے ہیں جس کو وہ زمین شعر ہے

ماہ نو مصرع ہے وصف ابروئے خم دار میں

ٹھکرا کے چلے جبیں کو میری

قسمت کی لکھی نے یاوری کی

خون مرا کر کے لگانا نہ حنا میرے بعد

دست رنگیں نہ ہوں انگشت نما میرے بعد

دماغ اور ہی پاتی ہیں ان حسینوں میں

یہ ماہ وہ ہیں نظر آئیں جو مہینوں میں

گر ہمارے قتل کے مضموں کا وہ نامہ لکھے

بیضۂ فولاد سے نکلیں کبوتر سیکڑوں

سخت ہے حیرت ہمیں جو زیر ابرو خال ہے

ہم تو سنتے تھے کہ کعبہ میں کوئی ہندو نہیں

مثل طفلاں وحشیوں سے ضد ہے چرخ پیر کو

گر طلب منہ کی کریں برسائے پتھر سیکڑوں

ہر گام پہ ہی سائے سے اک مصرع موزوں

گر چند قدم چلیے تو کیا خوب غزل ہو