noImage

حبیب موسوی

340
Favorite

باعتبار

دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب

مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ

ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں

لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سے

ہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پر

جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میں

بتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھی

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد

میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہے

موذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئے

زباں پر ترا نام جب آ گیا

تو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے

چاندنی چھپتی ہے تکیوں کے تلے آنکھوں میں خواب

سونے میں ان کا دوپٹہ جو سرک جاتا ہے

یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا

وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے

کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسو

انہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھی

دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزو

خاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگ

شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم

غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے

طالب بوسہ ہوں میں قاصد وہ ہیں خواہان جان

یہ ذرا سی بات ہے ملتے ہی طے ہو جائے گی

تھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا

دور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے

اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہے

دانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پر

فصل گل آئی اٹھا ابر چلی سرد ہوا

سوئے مے خانہ اکڑتے ہوئے مے خوار چلے

بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایا

ریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلے

خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑے

وہ محتسب کی سواری فریب راہ رکی

تیرہ بختی کی بلا سے یوں نکلنا چاہیے

جس طرح سلجھا کے زلفوں کو الگ شانہ ہوا

حضرت واعظ نہ ایسا وقت ہاتھ آئے گا پھر

سب ہیں بے خود تم بھی پی لو کچھ اگر شیشہ میں ہے

جب کہ وحدت ہے باعث کثرت

ایک ہے سب کا راستا واعظ

دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کا

پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئی

چھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئی

کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویش

جب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویش

تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا

کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ

غربت بس اب طریق محبت کو قطع کر

مدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئے

کسی ہیں بھبتیاں مسجد میں ریش واعظ پر

کہیں نہ میری طبیعت خدا گواہ رکی

ناصح یہ وعظ و پند ہے بے کار جائے گا

ہم سے بھی بادہ کش ہیں کہیں پارسا ہوئے

تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد

ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے

یوں آتی ہیں اب میرے تنفس کی صدائیں

جس طرح سے دیتا ہے کوئی نوحہ گر آواز

لکھ کر مقطعات میں دیں ان کو عرضیاں

جو دائرے تھے کاسۂ دست گدا ہوئے

برہمن شیخ کو کر دے نگاہ ناز اس بت کی

گلوئے زہد میں تار نظر زنار بن جائے

محتسب تو نے کیا گر جام صہبا پاش پاش

جبہ و عمامہ ہم کر دیں گے سارا پاش پاش

جلوہ گر دل میں خیال عارض جانانہ تھا

گھر کی زینت تھی کہ زینت بخش صاحب خانہ تھا

کیا ہوا ویراں کیا گر محتسب نے مے کدہ

جمع پھر کل شام تک ہر ایک شے ہو جائے گی