aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

حبیب موسوی

حبیب موسوی کے اشعار

1.1K
Favorite

باعتبار

دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزو

خاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگ

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب

مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میں

بتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھی

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد

میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سے

ہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پر

بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہے

موذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئے

رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ

ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں

زباں پر ترا نام جب آ گیا

تو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے

چاندنی چھپتی ہے تکیوں کے تلے آنکھوں میں خواب

سونے میں ان کا دوپٹہ جو سرک جاتا ہے

بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایا

ریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلے

کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسو

انہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھی

شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم

غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے

فصل گل آئی اٹھا ابر چلی سرد ہوا

سوئے مے خانہ اکڑتے ہوئے مے خوار چلے

یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا

وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے

طالب بوسہ ہوں میں قاصد وہ ہیں خواہان جان

یہ ذرا سی بات ہے ملتے ہی طے ہو جائے گی

خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑے

وہ محتسب کی سواری فریب راہ رکی

غربت بس اب طریق محبت کو قطع کر

مدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئے

حضرت واعظ نہ ایسا وقت ہاتھ آئے گا پھر

سب ہیں بے خود تم بھی پی لو کچھ اگر شیشہ میں ہے

پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئی

چھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئی

تھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا

دور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے

دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کا

کسی ہیں بھبتیاں مسجد میں ریش واعظ پر

کہیں نہ میری طبیعت خدا گواہ رکی

ناصح یہ وعظ و پند ہے بے کار جائے گا

ہم سے بھی بادہ کش ہیں کہیں پارسا ہوئے

تیرہ بختی کی بلا سے یوں نکلنا چاہیے

جس طرح سلجھا کے زلفوں کو الگ شانہ ہوا

جب کہ وحدت ہے باعث کثرت

ایک ہے سب کا راستا واعظ

اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہے

دانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پر

کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویش

جب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویش

تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا

کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ

کیا ہوا ویراں کیا گر محتسب نے مے کدہ

جمع پھر کل شام تک ہر ایک شے ہو جائے گی

تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد

ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے

یوں آتی ہیں اب میرے تنفس کی صدائیں

جس طرح سے دیتا ہے کوئی نوحہ گر آواز

جلوہ گر دل میں خیال عارض جانانہ تھا

گھر کی زینت تھی کہ زینت بخش صاحب خانہ تھا

لکھ کر مقطعات میں دیں ان کو عرضیاں

جو دائرے تھے کاسۂ دست گدا ہوئے

برہمن شیخ کو کر دے نگاہ ناز اس بت کی

گلوئے زہد میں تار نظر زنار بن جائے

محتسب تو نے کیا گر جام صہبا پاش پاش

جبہ و عمامہ ہم کر دیں گے سارا پاش پاش

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے