Hadi Machlishahri's Photo'

ہادی مچھلی شہری

1890 - 1961 | پاکستان

ہادی مچھلی شہری کے اشعار

561
Favorite

باعتبار

غم دل اب کسی کے بس کا نہیں

کیا دوا کیا دعا کرے کوئی

تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز

کس سے کس کا گلا کرے کوئی

وہ پوچھتے ہیں دل مبتلا کا حال اور ہم

جواب میں فقط آنسو بہائے جاتے ہیں

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا

فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

اس نے اس انداز سے دیکھا مجھے

زندگی بھر کا گلہ جاتا رہا

بے درد مجھ سے شرح غم زندگی نہ پوچھ

کافی ہے اس قدر کہ جیے جا رہا ہوں میں

اب وہ پیری میں کہاں عہد جوانی کی امنگ

رنگ موجوں کا بدل جاتا ہے ساحل کے قریب

اب کیوں گلہ رہے گا مجھے ہجر یار کا

بے تابیوں سے لطف اٹھانے لگا ہوں میں

تو ہے بہار تو دامن مرا ہو کیوں خالی

اسے بھی بھر دے گلوں سے تجھے خدا کی قسم

لطف جفا اسی میں ہے یاد جفا نہ آئے پھر

تجھ کو ستم کا واسطہ مجھ کو مٹا کے بھول جا

غضب ہے یہ احساس وارستگی کا

کہ تجھ سے بھی خود کو بری چاہتا ہوں

اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن

اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں

اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا

جس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا

دل سرشار مرا چشم سیہ مست تری

جذبہ ٹکرا دے نہ پیمانے سے پیمانے کو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے