noImage

حمید جالندھری

حمید جالندھری کے اشعار

آنے لگے ہیں وہ بھی عیادت کے واسطے

اے چارہ گر مریض کو اچھا کیا نہ جائے

سینے میں راز عشق چھپایا نہ جائے گا

یہ آگ وہ ہے جس کو دبایا نہ جائے گا

پھر گئی اک اور ہی دنیا نظر کے سامنے

بیٹھے بیٹھے کیا بتاؤں کیا مجھے یاد آ گیا

ان کی جفاؤں پر بھی وفا کا ہوا گماں

اپنی وفاؤں کو بھی فراموش کر دیا

ہوئی مدت کہ ان کو خواب میں بھی اب نہیں دیکھا

میں جن گلیوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلا تھا

کس شان سے گئے ہیں شہیدان کوئے یار

قاتل بھی ہاتھ اٹھا کے شریک دعا ہوئے

بھولی نہیں اجڑے ہوئے گلشن کی بہاریں

ہاں یاد ہیں وہ دن کہ ہمارا بھی خدا تھا