noImage

عمران الحق چوہان

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے کچھ بھی کیجے

یاد رہ جاتی ہے ہلکی سی چبھن کی حد تک

کیا جانے شاخ وقت سے کس وقت گر پڑوں

مانند برگ زرد ابھی ڈولتا ہوں میں

ہار ہی جیت ہے آئین وفا کی رو سے

یہ وہ بازی ہے جہاں جیت کے ہارے سارے

رنگ ہو روشنی ہو یا خوشبو

سب میں پرتو اسی حسیں کے ہیں

عجیب خوف کا موسم ہے ان دنوں عمرانؔ

سگندھ لے کے ہوا دور تک نہیں جاتی

اپنے لہو میں زہر بھی خود گھولتا ہوں میں

سوز دروں کسی پہ نہیں کھولتا ہوں میں