Jagdish Sahay Saxena's Photo'

جگدیش سہائے سکسینہ

شاہ جہاں پور, ہندوستان

الفت کی تھیں دلیل تری بدگمانیاں

اب بد گمان میں ہوں کہ تو بدگماں نہیں

ہوئی تھی اک خطا سرزد سو اس کو مدتیں گزریں

مگر اب تک مرے دل سے پشیمانی نہیں جاتی

ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق

پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے

رنج و الم کا لطف اٹھانے کے واسطے

راحت سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں

ہجوم رنج و غم نے اس قدر مجھ کو رلایا ہے

کہ اب راحت کی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی