Jagdish Sahay Saxena's Photo'

جگدیش سہائے سکسینہ

شاہ جہاں پور, ہندوستان

غزل 4

 

اشعار 5

الفت کی تھیں دلیل تری بدگمانیاں

اب بد گمان میں ہوں کہ تو بدگماں نہیں

ہوئی تھی اک خطا سرزد سو اس کو مدتیں گزریں

مگر اب تک مرے دل سے پشیمانی نہیں جاتی

ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق

پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے

رنج و الم کا لطف اٹھانے کے واسطے

راحت سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں

ہجوم رنج و غم نے اس قدر مجھ کو رلایا ہے

کہ اب راحت کی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی

کتاب 1

آب و رنگ

 

1974

 

"شاہ جہاں پور" کے مزید شعرا

  • پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق
  • رشید شاہجہانپوری رشید شاہجہانپوری
  • اختر شاہجہانپوری اختر شاہجہانپوری
  • رونق رضا رونق رضا
  • دل شاہجہاں پوری دل شاہجہاں پوری
  • نسیم شاہجہانپوری نسیم شاہجہانپوری
  • سراج فیصل خان سراج فیصل خان
  • ساجد صفدر ساجد صفدر
  • سیدہ شانِ معراج سیدہ شانِ معراج
  • مبارک شمیم مبارک شمیم