جاوید ہمایوں کے اشعار
ستارہ بن کے کبھی خواب میں چمک اٹھوں
اسی بہانے مجھے آسمان مل جائے
ہیں کوششیں کہ بجھے آگ شہر دل کی مگر
ہوا بضد ہے اسے اور بھی جلانے پر
حبس اتنا ہے یہاں سانس بھی رک رک جائے
کتنی بے جان ہوئی سرد ہوا مت پوچھو
ہم نے مہتاب کیا کوچۂ تاریک ترا
پھر بھی الزام کہ ہیں شہر جلانے والے
لمحہ لمحہ ہے قیامت سی بپا خوابوں میں
کس خطا کی مجھے ملتی ہے سزا خوابوں میں
دن گزرتا ہی نہیں رات چلی آتی ہے
دھندلکے رات کی تصویر لیے آتے ہیں
بس یہ اک خانہ پری ہے کرتے رہیے دستخط
پوچھیے مت کیا خطا ہے اس دیار میر میں
لہو کے رنگ و گل سے میں نے اک بستی بنائی ہے
بدلتی ہے ہر اک لمحہ مگر تصویر عالم کی