Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Jawed Humayun's Photo'

جاوید ہمایوں

1972 | کولکاتا, انڈیا

معروف شاعر، ادیب اور مرتب

معروف شاعر، ادیب اور مرتب

جاوید ہمایوں کے اشعار

ستارہ بن کے کبھی خواب میں چمک اٹھوں

اسی بہانے مجھے آسمان مل جائے

ہیں کوششیں کہ بجھے آگ شہر دل کی مگر

ہوا بضد ہے اسے اور بھی جلانے پر

حبس اتنا ہے یہاں سانس بھی رک رک جائے

کتنی بے جان ہوئی سرد ہوا مت پوچھو

ہم نے مہتاب کیا کوچۂ‌‌ تاریک ترا

پھر بھی الزام کہ ہیں شہر جلانے والے

لمحہ لمحہ ہے قیامت سی بپا خوابوں میں

کس خطا کی مجھے ملتی ہے سزا خوابوں میں

دن گزرتا ہی نہیں رات چلی آتی ہے

دھندلکے رات کی تصویر لیے آتے ہیں

بس یہ اک خانہ پری ہے کرتے رہیے دستخط

پوچھیے مت کیا خطا ہے اس دیار میر میں

لہو کے رنگ و گل سے میں نے اک بستی بنائی ہے

بدلتی ہے ہر اک لمحہ مگر تصویر عالم کی

گناہوں نے مجھے بخشی ہے شان بے نیازی پر

گنہ گاری مجھے معتوب کرنا چاہتی ہے اب

Recitation

بولیے