Kumar Pashi's Photo'

کمار پاشی

1935 - 1992 | دلی, ہندوستان

ممتاز جدید شاعر،رسالہ "سطور" کے مدیر

ممتاز جدید شاعر،رسالہ "سطور" کے مدیر

145
Favorite

باعتبار

کبھی دکھا دے وہ منظر جو میں نے دیکھے نہیں

کبھی تو نیند میں اے خواب کے فرشتے آ

کوئی تو ڈھونڈ کے مجھ کو کہیں سے لے آئے

کہ خود کو دیکھا نہیں ہے بہت زمانوں سے

کچھ غزلیں ان زلفوں پر ہیں کچھ غزلیں ان آنکھوں پر

جانے والے دوست کی اب اک یہی نشانی باقی ہے

دشت جنوں کی خاک اڑانے والوں کی ہمت دیکھو

ٹوٹ چکے ہیں اندر سے لیکن من مانی باقی ہے

مری دہلیز پر چپکے سے پاشیؔ

یہ کس نے رکھ دی میری لاش لا کر

تیری یاد کا ہر منظر پس منظر لکھتا رہتا ہوں

دل کو ورق بناتا ہوں اور شب بھر لکھتا رہتا ہوں

کیوں لوگوں سے مہر و وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو

جھوٹ کے اس مکروہ نگر میں لوگوں کا کردار کہاں

اپنے گرد و پیش کا بھی کچھ پتا رکھ

دل کی دنیا تو مگر سب سے جدا رکھ

ہوئی ہیں دیر و حرم میں یہ سازشیں کیسی

دھواں سا اٹھنے لگا شہر کے مکانوں سے

اوڑھ لیا ہے میں نے لبادا شیشے کا

اب مجھ کو کسی پتھر سے ٹکرانے دو

ہیں سارے انکشاف اپنے ہیں سارے ممکنات اپنے

ہم اس دنیا کا سارا علم لے جائیں گے ساتھ اپنے

نئی نئی آوازیں ابھریں پاشیؔ اور پھر ڈوب گئیں

شہر سخن میں لیکن اک آواز پرانی باقی ہے