Kumar Pashi's Photo'

کمار پاشی

1935 - 1992 | دلی, ہندوستان

ممتاز جدید شاعر،رسالہ "سطور" کے مدیر

ممتاز جدید شاعر،رسالہ "سطور" کے مدیر

452
Favorite

باعتبار

کچھ غزلیں ان زلفوں پر ہیں کچھ غزلیں ان آنکھوں پر

جانے والے دوست کی اب اک یہی نشانی باقی ہے

کبھی دکھا دے وہ منظر جو میں نے دیکھے نہیں

کبھی تو نیند میں اے خواب کے فرشتے آ

کوئی تو ڈھونڈ کے مجھ کو کہیں سے لے آئے

کہ خود کو دیکھا نہیں ہے بہت زمانوں سے

دشت جنوں کی خاک اڑانے والوں کی ہمت دیکھو

ٹوٹ چکے ہیں اندر سے لیکن من مانی باقی ہے

تیری یاد کا ہر منظر پس منظر لکھتا رہتا ہوں

دل کو ورق بناتا ہوں اور شب بھر لکھتا رہتا ہوں

مری دہلیز پر چپکے سے پاشیؔ

یہ کس نے رکھ دی میری لاش لا کر

کیوں لوگوں سے مہر و وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو

جھوٹ کے اس مکروہ نگر میں لوگوں کا کردار کہاں

اوڑھ لیا ہے میں نے لبادا شیشے کا

اب مجھ کو کسی پتھر سے ٹکرانے دو

اپنے گرد و پیش کا بھی کچھ پتا رکھ

دل کی دنیا تو مگر سب سے جدا رکھ

ہوئی ہیں دیر و حرم میں یہ سازشیں کیسی

دھواں سا اٹھنے لگا شہر کے مکانوں سے

نئی نئی آوازیں ابھریں پاشیؔ اور پھر ڈوب گئیں

شہر سخن میں لیکن اک آواز پرانی باقی ہے

ہیں سارے انکشاف اپنے ہیں سارے ممکنات اپنے

ہم اس دنیا کا سارا علم لے جائیں گے ساتھ اپنے