Mahmood Ayaz's Photo'

محمود ایاز

1929 - 1997 | بنگلور, ہندوستان

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

محمود ایاز کی اشعار

2K
Favorite

باعتبار

لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو

چاند خاموش جا رہا تھا کہیں

ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی

وہ نہیں ہے نہ سہی ترک تمنا نہ کرو

دل اکیلا ہے اسے اور اکیلا نہ کرو

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں

ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

وہ مرے ساتھ ہے سائے کی طرح

دل کی ضد ہے کہ نظر بھی آئے

شمع شب تاب ایک رات جلی

جلنے والے تمام عمر جلے

دولت غم بھی خس و خاک زمانہ میں گئی

تم گئے ہو تو مہ و سال کہاں ٹھہرے ہیں

کوئی دن اور غم ہجر میں شاداں ہو لیں

ابھی کچھ دن میں سمجھ جائیں گے دنیا کیا ہے

مصاف زیست میں وہ رن پڑا ہے آج کے دن

نہ میں تمہاری تمنا ہوں اور نہ تم میرے

تو رو بہ رو ہو تو اے روئے یار تجھ سے کہیں

وہ حرف غم کہ حریف غم زمانہ ہے