noImage

محشر عنایتی

1909 - 1976 | رام پور, ہندوستان

رام پور طرز واسلوب کے نمائندہ شاعر

رام پور طرز واسلوب کے نمائندہ شاعر

1.7K
Favorite

باعتبار

ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد

کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

چلے بھی آؤ مرے جیتے جی اب اتنا بھی

نہ انتظار بڑھاؤ کہ نیند آ جائے

ہر ایک بات زباں سے کہی نہیں جاتی

جو چپکے بیٹھے ہیں کچھ ان کی بات بھی سمجھو

بڑی طویل ہے محشرؔ کسی کے ہجر کی بات

کوئی غزل ہی سناؤ کہ نیند آ جائے

کسی کی بزم کے حالات نے سمجھا دیا مجھ کو

کہ جب ساقی نہیں اپنا تو مے اپنی نہ جام اپنا

نہ غیر ہی مجھے سمجھو نہ دوست ہی سمجھو

مرے لیے یہ بہت ہے کہ آدمی سمجھو

لب پہ اک نام ہمیشہ کی طرح

اور کیا کام ہمیشہ کی طرح

قسم جب اس نے کھائی ہم نے اعتبار کر لیا

ذرا سی دیر زندگی کو خوش گوار کر لیا

سنتے تھے محشرؔ کبھی پتھر بھی ہو جاتا ہے موم

آج وہ آئے تو پلکوں کو بھگونا پڑ گیا

نہ باتیں کرے ہے نہ دیکھا کرے ہے

مگر میرے بارے میں سوچا کرے ہے

اک انہیں دیکھو اک مجھے دیکھو

وقت کتنا کرشمہ کار سا ہے

اگر اپنے دل بیتاب کو سمجھا لیا میں نے

تو یہ کافر نگاہیں کر سکیں گی انتظام اپنا

میں دیوانہ سہی لیکن وہ خوش قسمت ہوں اے محشرؔ

کہ دنیا کی زباں پر آ گیا ہے آج نام اپنا