noImage

مرزا محمد تقی ہوسؔ

1766 - 1836 | لکھنؤ, ہندوستان

اودھ کے نواب ،آصف الدولہ کے ماموں زاد بھائی،کئی شاعروں کے سرپرست

اودھ کے نواب ،آصف الدولہ کے ماموں زاد بھائی،کئی شاعروں کے سرپرست

مرزا محمد تقی ہوسؔ کی اشعار

253
Favorite

باعتبار

لطف شب مہ اے دل اس دم مجھے حاصل ہو

اک چاند بغل میں ہو اک چاند مقابل ہو

یا خفا ہوتے تھے ہم تو منتیں کرتے تھے آپ

یا خفا ہیں ہم سے وہ اور ہم منا سکتے نہیں

دل میں اک اضطراب باقی ہے

یہ نشان شباب باقی ہے

تیز رکھیو سر ہر خار کو اے دشت جنوں

شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد

آشنا کوئی نظر آتا نہیں یاں اے ہوسؔ

کس کو میں اپنا انیس کنج تنہائی کروں

سب ہم صفیر چھوڑ کے تنہا چلے گئے

کنج قفس میں مجھ کو گرفتار دیکھ کر

ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلے

ہم کھینچ وہیں قشقہ زنار پہن نکلے

نہ کافر سے خلوت نہ زاہد سے الفت

ہم اک بزم میں تھے یہ سب سے جدا تھے

اے آفتاب ہادیٔ کوئے نگار ہو

آئے بھلا کبھی تو ہمارے بھی کام دن

زاہد کا دل نہ خاطر مے خوار توڑیئے

سو بار تو یہ کیجیے سو بار توڑیئے

سنتا ہوں نہ کانوں سے نہ کچھ منہ سے ہوں بکتا

خالی ہے جگہ محفل تصویر میں میری

ہماری دیکھیو غفلت نہ سمجھے وائے نادانی

ہمیں دو دن کے بہلانے کو عمر بے مدار آئی

نہ پایا وقت اے زاہد کوئی میں نے عبادت کا

شب ہجراں ہوئی آخر تو صبح انتظار آئی

ہوس ہم پار ہویں کیونکہ دریائے محبت سے

قضا نے بادبان کشتئ تدبیر کو توڑا

رنگ‌ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میں

شمع حرم چراغ دیر قشقۂ برہمن ہوں میں

دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ پھر فصل بہار آتی ہے

تلاش اس طرح بزم عیش میں ہے بے نشانوں کی

کوئی کپڑے میں جیسے زخم سوزن کا نشاں ڈھونڈھے

صد چاک کیا پیرہن گل کو صبا نے

جب وہ نہ تری خوبیٔ پوشاک کو پہنچا

صحرا میں ہوسؔ خار مغیلاں کی مدد سے

بارے مرا خوں ہر خس و خاشاک کو پہنچا