Moin Shadab's Photo'

معین شاداب

1971 | دلی, ہندوستان

1.1K
Favorite

باعتبار

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے

جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

سردی اور گرمی کے عذر نہیں چلتے

موسم دیکھ کے صاحب عشق نہیں ہوتا

تم ابھی آسماں کو تکتے ہو

شہر میں سب نے عید بھی کر لی

یہ تیز دھوپ ہمیں کیسے سانولا کرتی

ہمارے سر پہ دعاؤں کا شامیانہ تھا

ذرا سی دیر کو تم اپنی آنکھیں دے دو مجھے

یہ دیکھنا ہے کہ میں تم کو کیسا لگتا ہوں

کسی کے ساتھ گزارا ہوا وہ اک لمحہ

اگر میں سوچنے بیٹھوں تو زندگی کم ہے

بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے

بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں

وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی

اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے

اس زاویے سے پیڑ لگایا ہے بھائی نے

آتا نہیں ذرا سا بھی سایہ مری طرف

تم شرافت کہاں بازار میں لے آئے ہو

یہ وہ سکہ ہے جو برسوں سے نہیں چلتا ہے

دل ایک ہے تو کئی بار کیوں لگایا جائے

بس ایک عشق بہت ہے اگر نبھایا جائے

عمر بھر کو مرا ہونا بھی نہیں چاہتا وہ

مجھ کو آسانی سے کھونا بھی نہیں چاہتا وہ

مغالطے میں نہ رہیے گا کم نگاہی کے

ہمارا چشمہ نظر کا نہیں ہے دھوپ کا ہے

موجوں سے لڑتے وقت تو میں اس کے ساتھ تھا

ساحل پہ اس کے ہاتھ میں کوئی اور ہاتھ تھا

کسی کو دل سے بھلانے میں دیر لگتی ہے

یہ کپڑے کمرے کے اندر سکھانے پڑتے ہیں

تجھ سے مل کر سب سے ناطے توڑ لیے تھے

ہم نے بادل دیکھ کے مٹکے پھوڑ لیے تھے

یہ مرحلہ بھی کسی امتحاں سے کم تو نہیں

وہ شخص مجھ پہ بہت اعتبار کرتا ہے

تری نگاہ تو اس دور کی زکوۃ ہوئی

جو مستحق ہے اسی تک نہیں پہنچتی ہے

دل سے اتر جاؤں گا یہ معلوم نہیں تھا

میں تو اس کے دل میں اتر کر دیکھ رہا تھا

لمحہ بہ لمحہ پاؤں سے لپٹی ہیں ہجرتیں

کیسے لگاتے نام کی تختی مکان پر

جنوں پہ کوئی برا وقت آ پڑا ہے کیا

دوانے اپنے گریبان کیسے سینے لگے

مندمل دل کا ہر اک زخم ہوا جاتا ہے

یہی سرمایہ تھا جو ختم ہوا جاتا ہے

قتل کا اتنا شور ہوا ہے

دیکھ رہا ہوں خود کو چھو کر

نئے طرز کی کالونی میں سب کچھ ایک سا ہے

اپنا گھر بھی ہاتھ بڑی مشکل سے آتا ہے

شب ہجر اب مجھ کو کھلتی نہیں

یہ رستہ مرے پاؤں کو لگ گیا