Moin Shadab's Photo'

معین شاداب

1971 | دلی, ہندوستان

182
Favorite

باعتبار

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے

جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

سردی اور گرمی کے عذر نہیں چلتے

موسم دیکھ کے صاحب عشق نہیں ہوتا

تم ابھی آسماں کو تکتے ہو

شہر میں سب نے عید بھی کر لی

کسی کے ساتھ گزارا ہوا وہ اک لمحہ

اگر میں سوچنے بیٹھوں تو زندگی کم ہے

موجوں سے لڑتے وقت تو میں اس کے ساتھ تھا

ساحل پہ اس کے ہاتھ میں کوئی اور ہاتھ تھا

دل ایک ہے تو کئی بار کیوں لگایا جائے

بس ایک عشق بہت ہے اگر نبھایا جائے

مغالطے میں نہ رہیے گا کم نگاہی کے

ہمارا چشمہ نظر کا نہیں ہے دھوپ کا ہے

تری نگاہ تو اس دور کی زکوۃ ہوئی

جو مستحق ہے اسی تک نہیں پہنچتی ہے

بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے

بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں

دل سے اتر جاؤں گا یہ معلوم نہیں تھا

میں تو اس کے دل میں اتر کر دیکھ رہا تھا

وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی

اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے

عمر بھر کو مرا ہونا بھی نہیں چاہتا وہ

مجھ کو آسانی سے کھونا بھی نہیں چاہتا وہ

ذرا سی دیر کو تم اپنی آنکھیں دے دو مجھے

یہ دیکھنا ہے کہ میں تم کو کیسا لگتا ہوں

تم شرافت کہاں بازار میں لے آئے ہو

یہ وہ سکہ ہے جو برسوں سے نہیں چلتا ہے

مندمل دل کا ہر اک زخم ہوا جاتا ہے

یہی سرمایہ تھا جو ختم ہوا جاتا ہے

لمحہ بہ لمحہ پاؤں سے لپٹی ہیں ہجرتیں

کیسے لگاتے نام کی تختی مکان پر

نئے طرز کی کالونی میں سب کچھ ایک سا ہے

اپنا گھر بھی ہاتھ بڑی مشکل سے آتا ہے

اس زاویے سے پیڑ لگایا ہے بھائی نے

آتا نہیں ذرا سا بھی سایہ مری طرف

جنوں پہ کوئی برا وقت آ پڑا ہے کیا

دوانے اپنے گریبان کیسے سینے لگے

کسی کو دل سے بھلانے میں دیر لگتی ہے

یہ کپڑے کمرے کے اندر سکھانے پڑتے ہیں

یہ مرحلہ بھی کسی امتحاں سے کم تو نہیں

وہ شخص مجھ پہ بہت اعتبار کرتا ہے

تجھ سے مل کر سب سے ناطے توڑ لیے تھے

ہم نے بادل دیکھ کے مٹکے پھوڑ لیے تھے

قتل کا اتنا شور ہوا ہے

دیکھ رہا ہوں خود کو چھو کر

یہ تیز دھوپ ہمیں کیسے سانولا کرتی

ہمارے سر پہ دعاؤں کا شامیانہ تھا

شب ہجر اب مجھ کو کھلتی نہیں

یہ رستہ مرے پاؤں کو لگ گیا