Rasa Chughtai's Photo'

رسا چغتائی

1928 - 2018 | کراچی, پاکستان

3.54K
Favorite

باعتبار

تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل

تجھ سے مل کر بھی بے قرار رہا

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

عشق میں بھی سیاستیں نکلیں

قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں

اک لہر سی ہر دم رہتی ہے

کون دل کی زباں سمجھتا ہے

دل مگر یہ کہاں سمجھتا ہے

اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے

تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

تیرے آنے کا انتظار رہا

عمر بھر موسم بہار رہا

ہم کسی کو گواہ کیا کرتے

اس کھلے آسمان کے آگے

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

ہے کوئی یہاں شہر میں ایسا کہ جسے میں

اپنا نہ کہوں اور وہ اپنا مجھے سمجھے

بارہا ہم پہ قیامت گزری

بارہا ہم ترے در سے گزرے

اس گھر کی ساری دیواریں شیشے کی ہیں

لیکن اس گھر کا مالک خود اک پتھر ہے

بہت دنوں سے کوئی حادثہ نہیں گزرا

کہیں زمانے کو ہم یاد پھر نہ آ جائیں

شام ہی سے برس رہی ہے رات

رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا

چاند ہوتا نہیں ہر اک چہرہ

پھول ہوتے نہیں سخن سارے

اس سے کہنا کہ کبھی آ کے ملے

ہم سے رنجش کا سبب جو بھی ہو

عارضوں کو ترے کنول کہنا

اتنا آساں نہیں غزل کہنا

مٹی جب تک نم رہتی ہے

خوشبو تازہ دم رہتی ہے

حال دل پوچھتے ہو کیا تم نے

ہوتے دیکھا ہے دل اداس کہیں

گھر میں جی لگتا نہیں اور شہر کے

راستے لگتے نہیں اپنے عزیز

ہوئیں آنکھیں عجب بے حال اب کے

یہ بارش کر گئی کنگال اب کے

آج موضوع گفتگو ہے حیات

اب کوئی اور بات کل کہنا

اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے

چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے

اٹھ رہا ہے دھواں مرے گھر میں

آگ دیوار سے ادھر کی ہے

صرف مانع تھی حیا بند قبا کھلنے تلک

پھر تو وہ جان حیا ایسا کھلا ایسا کھلا

شہر میں جیسے کوئی آسیب ہے

شہر میں مدت سے ہنگامہ نہیں

الفاظ میں بند ہیں معانی

عنوان کتاب دل کھلا ہے

وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں

اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے

صحرائے بے خیال میں جل تھل کہاں کے ہیں

آخر ہوائے شوق یہ بادل کہاں کے ہیں

بہت دنوں میں یہ عقدہ کھلا کہ میں بھی ہوں

فنا کی راہ میں اک نقش جاوداں کی طرح

عکس زلف رواں نہیں جاتا

دل سے غم کا دھواں نہیں جاتا

شعر و سخن کا شہر نہیں یہ شہر عزت داراں ہے

تم تو رساؔ بد نام ہوئے کیوں اوروں کو بد نام کروں

دل دھڑکتا ہے سر راہ خیال

اب یہ آواز جہاں تک پہنچے