Saima Esma's Photo'

صائمہ اسما

لاہور, پاکستان

نہ جانے کیسی نگاہوں سے موت نے دیکھا

ہوئی ہے نیند سے بیدار زندگی کہ میں ہوں

کبھی کبھی تو اچھا خاصا چلتے چلتے

یوں لگتا ہے آگے رستہ کوئی نہیں ہے

نقش جب زخم بنا زخم بھی ناسور ہوا

جا کے تب کوئی مسیحائی پہ مجبور ہوا

جانے پھر منہ میں زباں رکھنے کا مصرف کیا ہے

جو کہا چاہتے ہیں وہ تو نہیں کہہ سکتے

آج سوچا ہے کہ خود رستے بنانا سیکھ لوں

اس طرح تو عمر ساری سوچتی رہ جاؤں گی

ایسا کیا اندھیر مچا ہے میرے زخم نہیں بھرتے

لوگ تو پارہ پارہ ہو کر جڑ جاتے ہیں لمحے میں

میسر خود نگہ داری کی آسائش نہیں رہتی

محبت میں تو پیش و پس کی گنجائش نہیں رہتی