شاہد غازی کے اشعار
اس رنگ بدلتی دنیا میں پہچان بڑی ہی مشکل ہے
یہ کس کو خبر ہے اے شاہدؔ کس بھیس میں کون لٹیرا ہے
تیری فیاضی کے تھے چرچے بہت میں نے سنے
پھر بھی تیرے میکدے سے تشنہ کام آیا ہوں میں
ماجھی نے ڈبویا ہے لہروں نے اچھالا ہے
گردش کے سمندر کا دستور نرالا ہے
مفلسوں کی بستی کو بیکسی نے گھیرا ہے
ہر طرف اداسی ہے ظلمتوں کا ڈیرا ہے
سو دیے جلائے ہیں دوستوں کے آنگن میں
پھر بھی میرے آنگن میں ہر طرف اندھیرا ہے