Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

شاہد غازی

شاہد غازی کے اشعار

اس رنگ بدلتی دنیا میں پہچان بڑی ہی مشکل ہے

یہ کس کو خبر ہے اے شاہدؔ کس بھیس میں کون لٹیرا ہے

تیری فیاضی کے تھے چرچے بہت میں نے سنے

پھر بھی تیرے میکدے سے تشنہ کام آیا ہوں میں

تجھے اس گاؤں سے جانا ہے اک دن

حویلی کیوں بنانا چاہتا ہے

ماجھی نے ڈبویا ہے لہروں نے اچھالا ہے

گردش کے سمندر کا دستور نرالا ہے

مفلسوں کی بستی کو بیکسی نے گھیرا ہے

ہر طرف اداسی ہے ظلمتوں کا ڈیرا ہے

سو دیے جلائے ہیں دوستوں کے آنگن میں

پھر بھی میرے آنگن میں ہر طرف اندھیرا ہے

ظلم سہہ کے بھی میں نے ہونٹ سی لیے غازیؔ

ایک ظرف ان کا ہے ایک ظرف میرا ہے

Recitation

بولیے