Tahzeeb Hafi's Photo'

نئی نسل کے نمایاں شاعر

نئی نسل کے نمایاں شاعر

5.43K
Favorite

باعتبار

میں کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں

پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے

داستاں ہوں میں اک طویل مگر

تو جو سن لے تو مختصر بھی ہوں

وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں

وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا

تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں

سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا

ہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا

اپنی مستی میں بہتا دریا ہوں

میں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے

ورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھے

اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے

کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے

میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا ہوں

وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں کرتا

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے

میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا

میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر

یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے

میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں

سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے

آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ

میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں

صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کو

ہاتھوں میں پھول ہیں مرے پاؤں میں ریت ہے