aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "'mohsin'"
محسن نقوی
1947 - 1996
شاعر
محسنؔ بھوپالی
1932 - 2007
محسن اسرار
born.1948
محسن زیدی
1935 - 2003
محسن احسان
1933 - 2010
محسن کاکوروی
1825 - 1905
عدنان محسن
born.1985
آنس معین
1960 - 1986
محسن چنگیزی
born.1979
محسن آفتاب کیلاپوری
born.1986
مدن موہن دانش
born.1961
محسن خان محسن
محسن ساحل
born.1990
محمد داؤد محسن
born.1962
مصنف
جگر بریلوی
1890 - 1976
محسنؔ تم بدنام بہت ہوجیسے ہو پھر بھی اچھے ہو
کسی کے دور جانے سےتعلق ٹوٹ جانے سے
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔوہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دےتنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔدیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
मोहसिन مُحْسِن
احسان کرنے والا، بھلائی کرنے والا، مدد کرنے والا، سخی، فیاض، مددگار، معاون
عربی
मोहरी موہری
پائجامے یا پتلون وغیرہ کا پائینچا ۔
moxie moxie
(عوامی) جرأت
मोहनी موہنَی
دل لبھانے والی عورت، (مجازاً) حسینہ و جمیلہ، نہایت خوبصورت عورت، مراد : محبوبہ
سنسکرت
عذاب دید
مجموعہ
حق ایلیا
برگ صحرا
غزل
طلوع اشک
ردائے خواب
رباعی
انڈا کیسے پھوٹا
محسن خاں
ڈراما
خیمہ جاں
بند قبا
ریزۂ حرف
انوکھی مسکراہٹ
سید محمد محسن
افسانہ
تاریخ یورپ عہد جدید
سید علی محسن
تاریخ
انتخاب قصائد
محمد رفیع سودا
قصیدہ
سعادت حسن منٹو اپنی تخلیقات کی روشنی میں
محمد محسن
تنقید
کلیات نعت مولوی محمد محسن
نعت
مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں
محمد عمران خاں ندوی
خاكه
محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دلدرپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی
کون سی بات ہے تم میں ایسیاتنے اچھے کیوں لگتے ہو
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میںمحسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔاس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھوکچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھےشام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گےیہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھاکہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیںجب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسنؔیہ ناز کم ہے کہ میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں
پاگل آنکھوں والی لڑکیاتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوااپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سےگلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کوشہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books