aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",POm"
ایڈگر ایلن پو
مصنف
لی بائی
شاعر
پوٹ
پور داود
ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگایہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
کب پو پھٹے کب رات کٹے کون یہ جانےمت چھوڑ کے جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے
میں اپنے مساموں سے ہر پور سےتیری بانہوں کی پہنائیاں
پو پھٹے کیوں مری پلکوں پہ سجاتے ہو انہیںیہ ستارے تو مجھے شام سے پہچانتے ہیں
ترے کچے لہو کی مہندیمرے پور پور میں رچ گئی ماں
شاعری میں اکثر ایک سے زیادہ معانی ہوتے ہیں - غزل کے ساتھ یہ معانی کے ساتھ ساتھ احساس کی سطح پر بھی ہے - ان غزلوں کو پڑھ کر آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں -
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
غزل ایک ساتھ مختلف موضوعات کا احاطہ کرنے کے لئے جانی جاتی ہے، ہر شعر اپنے آپ میں آزاد ہوتا ہے۔ لیکن کچھ غزلیں اس طرح کہی جاتی ہیں جن کا ہر شعر پچھلے شعر کے معنی میں اضافہ کرتا ہے۔ ایسی غزلوں کو مسلسل غزل کہا جاتا ہے۔ یہاں ایسی ہی چنندہ غزلیں جمع کی گئی ہیں، پڑھئے اور لطف لیجئے
पौپَو
سنسکرت
(پچیسی) دان٘وں کے عدد جس میں گوٹ چوسر پر کھیلنے کو رکھی جائے - (یعنی سات کوڑیوں کے چت یا پٹ گرنے کی مقررہ تعداد پر پو ہوتی اور گوٹ بٹھائی جاتی ہے) .
पोंپوں
پر(= اوپر)، پہ
पोپو
پر، پہ
पौ रहनाپَو رَہْنا
(پچیسی ، چوسر) نرد کا آخری خانے میں جا پڑنا .
وہ بیضوی تصویر
افسانہ / کہانی
سرخ موت
اصول علم ہندسہ
تحقیق و تنقید
آریہ سماج کی پول (تحفۂ آریہ سماج)
بابو عبدالعزیز نومسلم
سماجی مسائل
موت کا سر
افسانہ
آریہ سماج کی پول
فسانۂ عشق
نثار اکبرآبادی
شاعری
پیم پرکاش
برکت اللہ پیمی
خواتین کے تراجم
پاکستانی ڈھول کا پول
سید میر قاسم
خطبات
پہلی پو پہلی پروائی
خالد احمد
ڈھول کا پھول
شوکت محمود
دیگر
خردہ اوستا
مذہبیات
پوپ کہانیاں
مقصود الٰہی شیخ
آدمی کی پول کھل گئی
م۔احمد۔ایم۔اے
کسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤ
وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہےمرے بدن کو ملا ہے چنار کا موسم
ایم پی بکنے والے دیکھےپی ایم ڈھیلے ڈھالے دیکھے
جیسے پو پھٹ رہی ہو جنگل میںیوں کوئی مسکرائے جاتا ہے
میری تو پور پور میں خوشبو سی بس گئیاس پر ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
اور اس سے الگ ہو توٹھنڈک کو پور پور میں اترتا دیکھو
کہ جیسے ابد تکمری ایک اک پور کا انتساب
رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئیوہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی
انشاؔ صاحب پو پھٹتی ہے تارے ڈوبے صبح ہوئیبات تمہاری مان کے ہم تو شب بھر بے آرام ہوئے
’’ایک چمچہ (یہ ایک لفظ نہیں پڑھا جارہا)؟‘‘ تو مجبوراً یہی گزارش کرتاہوںکہ میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچ ڈال دیجئے۔...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books