aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",oHT"
آہ سنبھلی
مصنف
صفدر آہ سیتاپوری
1903 - 1980
شاعر
رجت گپتا عہد
1993 - 2020
قدسیہ زیدی
1914 - 1960
جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لیگویجز
ناشر
مطبع اہل سنت و جماعت، بریلی
مطبوعۂ دارالطبع سرکار عالی
نصرت آرٹ پریس، ربوہ
مطبع اہل سنت برقی پریس، مراداباد
ادارہ اہل سنت و جماعت، حیدرآباد
مطبع عہد آفریں، حیدرآباد
دی فائن آرٹ پرنٹنگ، الہ آباد
مکتبہ اہل سنت والجماعت، دہلی
لبرٹی آرٹ پریس، نئی دہلی
قریشی آرٹ پریس، لاہور
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہےسو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نےتو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد ناموہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
جو عہد ہی کوئی نہ ہوتو کیا غم شکستگی
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غممقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
کچھ اچھی اور معتبر خواتین کی خود نوشتوں کی ایک منتخب فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
روسی ادب کے اردو تراجم یہاں پڑھیں، اس صفحہ پر چنندہ روسی تراجم دستیاب ہیں، جنہیں ریختہ نے اپنے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
उठ اُٹھ
آٹھنا کا حاصل مصدر، نبز امو، عموماً ترکبب میں مستعمل۔ جیسے : آٹھ آنا، آٹھ پڑنا، آٹھ بیٹھ، وغیرہ
'अहद عَہْد
عربی
وقت، زمانہ، دور
आहो آہو
ایک آواز یا کلمہ جو اقرار اور ایجاب کے موقع پر مستعمل
आहू آہُو
فارسی
بکری سے مشابہ نکیلے سیںگوں اور بڑی آنکھوں کا ایک صحرائی جانور، ہرن
دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی اور ادبی خدمات
مجیب الاسلام
ادبی تحریکیں
عہد وسطی کا ہندوستان
ستیش چندر
ہندوستانی تاریخ
دی آرٹ اینڈ سائنس آف غزل
ایلزبتھ کورین مونا
شاعری تنقید
اٹھارہویں صدی میں ہندوستانی معاشرت
محمد عمر
تاریخ ہند
ظفر احمد نظامی
نظیر اکبر آبادی ان کا عہد اور شاعری
ابواللیث صدیقی
اے میسج فروم دی ایسٹ
شاعری
ہربنس مکھیہ
تاریخ
اردو تحقیق کا عہد زریں
محمد اکمل
تحقیق
تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام
سر سید احمد خاں
تقابلی مطالعہ
عہد سزا
حبیب جالب
مجموعہ
اہل ہند کی مختصر تاریخ
تارا چند
دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی اورفکری پس منظر
محمد حسن
غالب اور عہد غالب
شاہد ماہلی
تنقید
مرزا مظہر جان جاناں
سید تبارک علی نقش بندی
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
باوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھےآج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ہے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںتجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفااک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا
کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفلچراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی
اتنے خائف کیوں رہتے ہوہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
اور اہل حکم کے سر اوپرجب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیںاسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہکوئے دل میں خرام کر رہے ہیں
کہوں بے درد کیوں اہل جہاں کووہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہیجھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books