aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".eyk"
جیڈ۔ اے۔ کے۔
ناشر
چندر شیکھر اوک
مدیر
الک گھوش
مصنف
مطبع عالیہ خورشیدیہ
ایک بی- اے
ڈائنا ایل۔ ایک
آیہ تطہیر
مترجم
انک لنکس پبلشنگ ہاؤس پانپور سرینگر کشمیر
ماہنامہ ساحل، یو.کے
ہم ایک ہیں تنظیم بھوپالی
پرنٹ لیگی انک، دہلی
پرنٹولوجی انک
اے۔ بی۔ ۔سی۔ آفسیٹ پرنٹرز، دہلی
دفتر ایک آنہ لائبری، لاہور
مانرک انک مینوفیکچرنگ کمپنی بدایوں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کاسو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروماے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتاایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دندیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
اس کلیکشن میں ہم نے زبیر رضوی کی اُن نظموں کو شامل کیا ہے جو ایک سلسلے کا حصہ ہیں اور جن کی ابتدا "پرانی بات ہے" کے مصرعے سے ہوتی ہے۔
مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور۔
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "رات" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری کائنات کا پتا چلے گا۔
aye aye
ہَمیشَہ
आया آیا
پرتگالی
بتاؤ تو، آخر
आया آیہ
انّا، خادمہ، کھلانی
अयो اَیو
ایسا، مانند
راجستھانی زبان و ادب
سید فضل امام رضوی
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
اردو تنقید پر ایک نظر
کلیم الدین احمد
تنقید
آر۔ پروگرامنگ ایک تعارف
ثنا رشید
سائنس
ساختیات: ایک تعارف
ناصر عباس نیر
مقالات/مضامین
اردو شاعری پر ایک نظر
شاعری تنقید
مارکسزم ایک مطالعہ
ظفر امام
عورت ایک نفسیاتی مطالعہ
سیمون دی بووا
ترجمہ
ایک چادر میلی سی
راجندر سنگھ بیدی
معاشرتی
ایک تھی سارا
امرتا پریتم
خواتین کے تراجم
ن۔ م۔ راشد: ایک مطالعہ
جمیل جالبی
نظم تنقید
اسلامی علوم
عبد الوارث خاں
اسلامیات
کشف الحقائق
سید شرافت نو شاہی
تحقیق / تنقید
میراجی ایک مطالعہ
ایک لڑکی اور دوسری کہانیاں
خواجہ احمد عباس
افسانہ
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہمبچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھی
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پران میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غممقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
اک مہک سمت دل سے آئی تھیمیں یہ سمجھا تری سواری ہے
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیںاک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books