aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".pez"
اوکٹاویو پاز
1914 - 1998
شاعر
خانقاہ حضرت سید شاہ پیر دمڑیا، بھاگلپور
ناشر
Hazrat Sai Raaz Peer
مصنف
الیکساندر پردسکورن
پین اینڈ پیپر پبلیکیشنز، لاہور
شارپ آفسیٹ پریس، مالیگاؤں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیںسو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پرکیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہےآنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
نہ رشتۂ وفا پہ ضدنہ یہ کہ اذن عام ہو
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
جانوروں سے انسیت
عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' اور 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق
पेپہ
upon-on
तेज़تَیز
فارسی
(ذائقے کیفیت مزاج یا اثر میں) بڑھا ہوا، تند، سخت، گرم، چٹ پٹا
पेड़پیڑ
ہندی
درخت ، پودا ،جھاڑ.
पे-मेंپے میں
عقب میں، پیچھے، درپے، دھن میں
نیند کی مسافتیں
عذرا عباس
شاعری
ببول کے پیڑ
سٹینلےکارناو
خودنوشت
پیڑاور پتّے
رام ریاض
پیج ندی کا مچھیرا
صادقہ نواب سحر
افسانہ
پہنچی وہیں پہ خاک
محی الدین نواب
دیگر
پین ڈرائیو
احمد علوی
مریض عشق پہ
شوکت تھانوی
ناول
سوا نیزے پہ سورج
اختر نظمی
مجموعہ
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
اعجاز راہی
نظم
اردو شاعری پر ایک نظر
کلیم الدین احمد
فسانۂ عشق
نثار اکبرآبادی
مگر مچھ کے پیٹ میں
ابو الحسن ابن الہثیم
پیم پرکاش
برکت اللہ پیمی
خواتین کے تراجم
میوے کے پیڑ
انا رام سداما
تشو پیپر لکھی نظمیں
روش ندیم
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدالڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہیتمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books