aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baad-e-bahaar-e-aa.iina"
ادارئہ بہار سخن، حیدرآباد
ناشر
مطبع بہار کشمیر، لکھنؤ
باغ و بہار بک ڈپو، دہلی
انجمن بہارادب، آگرہ
بزم آئینہ پبلیکیشنز، کرنول
پس آئینہ پبلیشرز
مطبع بہار ہند، بریلی
مکتبئہ آئینئہ سخن، لکھنؤ
مطبع بہار ایران
شام بہار ٹرسٹ، امبالہ
مطبع بہار ہند، آگرہ
بدر عالم خلش
born.1962
شاعر
بدر عالم خاں اعظمی
مصنف
بدر ابراہیم
بدر شکیب
پھر باد بہار آئي ، اقبال غزل خواں ہوغنچہ ہے اگر گل ہو ، گل ہے تو گلستاں ہو
اے بہار باغ دنیا چند روزدیکھ لو اس کا تماشا چند روز
اے بہار گنگ اے بھارت نوازتیری ہستی پر ہے اک عالم کو ناز
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہےیا رب مرا جنون محبت جواں رہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
مصطلحات بہارعجم
نامعلوم مصنف
دیوان بہار عرب
محامد سرور
تذکرہ بہار سخن
محمد شرف الدین یکتا
انشائے بہار بیخزان
منشی غلام امام شہید
مضامین
نذیر رامپوری
دیوان
انشاے بہار بیخزاں
غلام امام شہید
مطبوعات منشی نول کشور
محمد نذیر حافظ رامپوری
دیوان بہارعرب
شرح بہار عجم
زبان
انشاے بہار عجم
منشی امانت علی
انشائے بہار بے خزاں
بہار گنبد خضرا
شفیق بریلوی
مجموعہ
عباسیان کاکوری
محمد حسن عباسی کاکوری
تہذیبی وثقافتی تاریخ
تذکرہ: بہار گلشن کشمیر
انتخاب
بہار ایجادی بیدل
عبد القادر بیدل دہلوی
شاعری
باد بہار میں سب آتش جنون کی ہےہر سال آوتی ہے گرمی میں فصل ہولی
واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارضباغ فردوس کا ہر پھول نثار عارض
یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گابھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گا
ہر ساعت بہار و مسرت گزر گئیدل کیا گیا کہ لذت درد جگر گئی
اے بہار گنگ اے سرمایۂ پاکیزگیتیری ہستی تشنہ کاموں کے لئے مے خانہ ہے
صبح بہار و شام خزاں کچھ نہ کچھ تو ہوبے نام زندگی کا نشاں کچھ نہ کچھ تو ہو
نیرنگی بہار و خزاں دیکھتے رہےحیرت سے ہم طلسم جہاں دیکھتے رہے
جان بہار زندگی آنکھیں ذرا ملائے جاگلشن قلب پر مرے برق نظر گرائے جا
نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیںکیا گل کھلائے گریۂ شبنم بھی دیکھ لیں
دکھلا رہے ہو لطف بہار و خزاں تمہیںگل ہو تمہیں چمن ہو تمہیں باغباں تمہیں
محو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہے
چشم گریاں بسمل شوق بہار دید ہےاشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
صبح بہار غم کی کبھی شام دیکھناآغاز دیکھنا کبھی انجام دیکھنا
رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books