aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "barsaanaa"
نشاط پروین برسوی
born.1979
شاعر
سالم چاوش برسمن
مصنف
غلام رسول بڈانہ
مدیر
سرجیت سنگھ برنالہ
مجلس تحقیقات شرعیہ، برطانیہ
ناشر
انجمن ترق اردو (ہند)، برنالہ
بندنا پرنٹرس، کٹک
چاپخانہ سازمان برنامہ
بکس انٹرنیشنل، برطانیہ
برسانا و نند گاؤں میں بھیدیکھ آئے ہیں جلوہ ہم کسی کا
بھری برسات میں پیہم جدائی کے تصور سےوہ مل کر اشک برسانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
پیاسے کو پانی برسانا پڑتا ہےساگر کو بادل بن جانا پڑتا ہے
دل کی دھرتی کے خشک ہونٹوں پرپیار کی ایک بوند برسانا
تم بھی پتھر ہی برسانامیری لاش برداشت نہیں کر سکے گی
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
बरसानाبَرسانا
ہندی
بارش کرنا، بارش بھیجنا یا لانا
बचानाبَچانا
بچانا،محفوظ کرنا، حفاظت کرنا، مدد کرنا
बसानाبَسانا
سنسکرت
آباد کرنا، معمور کرنا
बहलानाبَہْلانا
تسلی دینا، تشفی دینا، ٹال مٹول کرنا، دھوکہ دینا، فریب میں رکھنا، باتوں سے خوش کرنا، خوش کرنا، طبیعت کو بحال کرنا
تیغ برہنہ
حضرت سلطان باہو
ترجمہ
آئین برطانیہ
سید نجم الدین احمد جعفری
دستور
حالات قطب دکن حضرت سید حسن عرف برہنہ شاہ صاحب
محمد علی خاں
حرف برہنہ
عنوان چشتی
تنقید
نیشنل فارمولری
حکیم غلام نبی
طب
برطانیہ میں اردو حبیب حیدرآبادی تحقیق و تنقید
محمد اسلم فاروقی
برطانیہ کا دستور اور نظام حکومت
محمد محمود فیض آبادی
سفرنامہ برہما
سید ابو ظفر ندوی
سفر نامہ
نقش برسنگ
سہیل انجم
مضامين و خاكه
پابرہنہ
شمیم قاسمی
غزل
برطانیہ کی سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ
محمد عبدالقادر حبیب
عالمی
شمشیر برہنہ
شاہ اشرف الدین اشرف
اسلامیات
سفرنامۂ برہما
شور صہبائی
خطبات برطانیه
سید محمد مدنی اشرفی جیلانی
خطبات
جہاں تک ہو سکے ہر حال میں ہم شاد رہتے ہیںوفور یاس میں بھی اشک برسانا نہیں آتا
سوکھی دھرتی اپنی کوکھ سے کیا دے گیبادل اب کے جل برسانا بھول گئے
انہیں نازک لبوں کو فرصت آتش بیانی بھیانہیں نازک لبوں کو پھول برسانا بھی آتا ہے
دیکھتے ہی مجھے برسانا یہ پتھر کیساتیرا عاشق نہ ہوا میں کوئی دیوانہ ہوا
مجھ پہ برسانا دہکتے ہوئے سورج کی تپشآسماں دیکھ کہ اک تیری گھٹا ہوں میں بھی
تم اپنی آنکھوں سے آنسو نہیں انگار برساناکوئی صورت نہ ہو تو
قہر کیسا صبح دم باد بہاری کر گئیپھول برسانا تھے دل پر شعلہ باری کر گئی
برہنہ ہیں سر بازار تو کیابھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگووہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books