aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "do-bol"
میجر دی اورینٹل بک، راولپنڈی
ناشر
ڈی۔ بی۔ بکڈپو، ممبئی
دو بولکھنکتے رہتے ہیں
صرف دو بول ہی نہیں کافیدل تو ملتے ہیں دل ملانے سے
میری قیمت ہے پیار کے دو بولکتنے سستے میں دستیاب ہوں میں
محبت کے دو بول بولیں ذرا ہمہے کیوں اتنی نفرت یہ سوچیں ذرا ہم
دو بول بھی میٹھے نہیں تھے ہم کو میسریعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا
احمد فراز پچھلی صدی کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔اپنے معاصرین میں بے حد سادہ اور منفرد اسلوب کی وجہ سے ان کی شاعری خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ریختہ فراز کے 20 ایسے معروف و مقبول اور مؤقراشعار کا مجموعہ پیش کر رہاہے جس نے عوام الناس پر سحر ہی طاری نہیں کیا بلکہ ان کے دلوں کو مسخر بھی کیا۔ ان اشعار کا انتخاب بہت آسان نہیں تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ اب بھی فراز کے بہت سے مقبول اشعار اس فہرست میں نہیں ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی آرا کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہماری مجلس مشاورت اس کو اتفاق رائے سے پسند کرتی ہے تو ہم اس کو نئی فہرست میں شامل کریں گے ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئی ہوگی اور آپ اس فہرست کو سنوارنے اور آراستہ کرنے میں معاونت فرمائیں گے۔
میر 18ویں صدی کے جدید شاعر ہیں ۔اردو زبان کی تشکیل و تعمیر میں بھی میر کی خدمات بیش بہا ہیں ۔خدائے سخن میر کے لقب سے معروف اس شاعر نے اپنے بارے میں کہا تھا میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی۔ ریختہ ان کے 20 معروف و مقبول ،پسندیدہ اور مؤقراشعار کا مجموعہ پیش کر رہاہے ۔ ان اشعار کا انتخاب بہت سہل نہیں تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ اب بھی میر کے کئی مقبول اشعار اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی رائے کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہماری مجلس مشاورت آپ کے پسندیدہ شعر کو اتفاق رائے سے پسند کرتی ہے تو ہم اس کو نئی فہرست میں شامل کریں گے ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئی ہوگی اور آپ اس فہرست کو سنوارنے اور آراستہ کرنے میں معاونت فرمائیں گے۔
दो-बोलدو بول
ہندی
(لفظاً) دو ایک فقرے یا جملے ، (مراداً) نکاح کا ابحاب و قبول نکاح ؛ دو بول.
डोलڈول
سنسکرت
جُن٘بش ، حرکت (تراکیب میں مستعمل).
दोलدول
ڈول، ٹوکری، جہاز یا کشتی کا مستول، تھیلا، بٹوہ جو کلائی میں لگایا جائے، نیز دلبان
dolldoll
گُڑِیا
پنچ بول
ڈاکٹر ابوالکلام
میٹھے بول
ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی
نظم
فارغ البال
ڈاکٹر عابد معز
زبان و ادب
بال جبریل کا تنقیدی مطالعہ
ڈاکٹر صدیق جاوید
لفظوں کے آبشار میں بہنے لگے ہیں غمدو بول پیار کے مجھے فرحاں کئے ہوئے
میں نے جب پیار کی دولت سے نوازا ہے اسےوہ بھی دو بول محبت کے سنانے آئے
سر پہ ہے غم کی کڑی دھوپ کہاں ہیں احبابکاش دو بول سے ہمدردی کے سایا کرتے
ہم توجہ دل کی دنیا کی طرف دیتے نہیںپیار کے دو بول میٹھے بولنا چاہیں تو کیوں
تو نے خوشبو سے بھرے خط تو بہت سے بھیجےایک دو بول کبھی آ کے زبانی دے جا
کون ہے جس سے ہمیں پیار کے دو بول ملیںآج کے لوگ ہیں پتھر کے صنم کی صورت
غنیمت جان اگر دو بول بھی کانوں میں پڑ جائیںکہ پھر یہ بولنے والا نہ روئے گا نہ گائے گا
تڑپ رہا ہے کئی روز سے دل بیماردو بول چاہیے تھے آپ سے دوا کے لئے
کبھی دو بول محبت کے بھی اے جان صفیؔجب بھی دیکھو ترے ہونٹوں پہ لگا رکھا ہے
مختصر سی رسم ختنہ اور اس پر تیس شعرعقد کے دو بول کی تقریب اور چالیس شعر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books