aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fidaa-e-chehra-e-gulnaar"
ادارہٗ گلبن حسن گارڈن، لکھنؤ
ناشر
مکتبہ گلزار ادب، راولپنڈی
محمد عباس ابن غلام علی چشتی دہلوی
مترجم
ادبی تنظیم گہوارۂ فدا، نئی دہلی
مطبع گلزار علوم
اے ایم زتشی گلزار
مصنف
گلزار ادب، نیپال گنج
مطبع گلزار مومنین
مطبع گلزار دکن، حیدرآباد
مطبع گلزار ابراہیم
مطبع گلزار ہند
مطبع گلزار احمدی، مرادآباد
مطبع گلزار اودھ، لکھنؤ
مطبع گلزار محمدی، لکھنؤ
گلزار عام پریس، لاہور
جب فدائے چہرۂ گلنار ہو جائیں گے ہماس کے دروازے پہ چوکیدار ہو جائیں گے ہم
شب میں طلوع چہرۂ مہتاب کیجئےآغاز روشنی کا نیا باب کیجئے
جب نقاب چہرۂ قاتل کھلاتب دل وابستۂ بسمل کھلا
جس طرف دیکھو ہجوم چہرۂ بے چہرگاںکس گھنے جنگل میں یارو گم ہوا سب کا ہنر
بہت حریص ہیں دیدہ وران چہرہ فضاؔنقاب ڈال کے چل آگہی کے چہرے پر
شاعروں نے محبوب کے چہرے اور اس کی صورت کی مبالغہ آمیز تعریفیں کی ہیں اور اس باب میں اپنی تخلیقی قوت کا نئے نئے طریقوں سے اظہار کیا ہے ۔ محبوب کے چہرے کی خوبصورتی کا یہ بیانیہ ہم سب کے کام کا ہے ۔ چہرے کو بنیاد بنا کر اور بھی کئی طرح کے موضوعات اور مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔
فدائے فضل رحمانی
محمد فدا حسین
شجر گلنار
ساتو کو کی زاکی
ترجمہ
عروس فرغانہ
جرجی زیدان
چہرۂ خواب
نسیم سحر
رنگ گلنار
سرور عالم راز
مجموعہ
تذکرہ فدائے ملت
محمد سلمان منصورپوری
تذکرہ
فدائے شوہر
نشر لکھنوی
قوالی
فدائے توحید
علی بہادر خاں
چہرہ پس چہرہ
ابن فرید
چہرہ ہستی
ظہور احمد فاتح
غزل
اسلامیات
چہرۂ گل دھواں دھواں سا ہے
پروین شیر
خواتین کی تحریریں
مقالات/مضامین
فدائے لکھنو
پروین طلحہ
مضامین
پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے
ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم
قصہ / داستان
کس خموشی سے جلا دامن دل اے گلنارؔکوئی شعلہ بھی نہ تھا کوئی شرارا بھی نہ تھا
چہرہ چہرہ عالم بے چہرگیدیکھ کر بھی زندگی دیکھے گی کیا
دھلا سا چہرہ بھی کچھ ماند پڑ گیا آخرہوئے نہ اشک تری چشم تر کی گرد ہوئے
ہے چہرہ چہرہ وہی زخم رائیگاں ہنریبکھر گئے ہیں قلم کے شگاف چاروں طرف
بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیںکام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا
ہوا دل سرخ رو آیا نظر جبشگفتہ چہرۂ گل نار ہمنا
گلنارؔ ضبط غم کی یہ انتہا بھی دیکھیدامن بھگو رہے ہیں آنسو نکل نکل کر
دل پریشان ہے گلنارؔ تو ماحول اداساب ضرورت ہے کوئی مطرب خوش خو آئے
نئی سحر کا میں گلنارؔ استعارہ ہوںفضائے تیرہ شبی ختم ہو سحر آئے
گلنارؔ سر شاخ چمن لالہ و گل کودے دے وہ اجازت تو مہکنے کی ادا دوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books