aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "halaahil"
قمر ہلالی
مصنف
سجیت سہگل حاصل
born.1970
شاعر
منشی محمد حامد علی
مطبع مفید حلائق
ناشر
حاصل سنبھلی
حاصل عباسی اعظمی
مدیر
عبید حاصل
Anoor Halani
حمید حاصل
born.1925
مترجم
علامہ علی بن برہان الدین حلبی
1567 - 1635
غیروں سے شکر لب سخن تلخ بھی تیراہر چند ہلاہل ہو گوارا نہ کریں گے
اے ہمدم آہ تلخی ہجراں سے دم نہیںگرتا ہے دیکھ جام ہلاہل کو تھامنا
بہ نام لالہ رخاں کچھ تو زہر غم پی لیںترے لبوں میں ہلاہل شراب جیسا ہے
جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسر
درمیان حائل ملے گااک خلائے بے کراں
हलवाही ہَلْواہی
کاشت کاری کا پیشہ، کھیت میں ہل چلانے کا کام، کاشت کاری
ہندی
सलाही صَلاحی
صلاح (رک) سے منسوب یا متعلق ، صلاح کا ، بہبود کا.
हलाकी ہَلاکی
ہلاکت، موت، قتل
हलानी حَلانی
اگر (ایک درخت کی لکڑی جو جلنےسے خوشبو دیتی ہے) کی ایک ادنیٰ قسم.
عربی
حلال و حرام پرندے اور ان کے طبی فوائد
سلیم احمد
طب
حلال و حرام چوپائے اور ان کے طبی فوائد
حلال خور
خواجہ حسن نظامی
تہذیبی وثقافتی تاریخ
حاصل یہی
حسن کمال
مجموعہ
سیرت حلبیہ
اسلامیات
سیرت حلبیہ ( قسط-002)
تاریخ اسلام
وَقعَات اُلسنَان الے حلق المسماہِ بَسْط البنان
مولوی محمد مصطفیٰ رضا خاں
حالات المصنفین و تذکرۃ الفنون
محمد عثمان
سیرت حلبیہ ( قسط-008)
زہر ہلاہل
جے۔ ایس۔ فلیچر
جاسوسی
سحر حلال
ساحر بھوپالی
تحقیق الحبر فی حیات الخضر
مولانا ابوالحسنات عبدالغفور داناپوری
الکلام الفصیح فی تحقیق حیات المسیح
محمد عرب مکی حنفی قادری سنوسی
سیرت حلبیہ ( قسط-005)
یابس کہیں مرطوب کہیں گرم کہیں سردمصری میں کہیں زہر ہلاہل میں سنا ہے
غم سمٹ جائے گارات کڑوے ہلاہل میں گھل جائے گی
دو گھونٹ پلا دے کوئی مے ہو کہ ہلاہلوہ تشنہ لبی ہے کہ بدن ٹوٹ رہا ہے
تم آب بقا کے شیدائی میں زہر ہلاہل کا جویامیں رنج و صعوبت کا عادی تم عیش و طرب کے دل دادہ
تریاک کے کوزے میں بھرا زہر ہلاہلاللہ رے مے خانۂ مغرب کی مئے ناب
بناتا ہے سدا ہم کو تشدد کا نشانہ وہفضائے امن میں زہر ہلاہل گھول دیتا ہے
قائمؔ ہے کیا ہلاہل و آب خضر پہ حصرآ جائے بزم دست میں جو کچھ سو کیجے نوش
تمہیں نے ہاتھ رکھا نبض دوراں پربنے تریاک اس زہر ہلاہل کا
زہراب و ہلاہل سے جو کچھ کام نہ نکلادے کر کے میں کی خون جگر پرورش دل
اب دوا دو کے زہر ہلاہلہم تو خوش ہیں تمہاری خوشی میں
حلاوت سے عدو کو اور مجھے تلخی سے فرمایاتمہیں قند مکرر ہوں تمہیں زہر ہلاہل ہوں
لاؤ یہ جام ہلاہلمیرے ہونٹوں سے لگا دو
دھوپ چھاؤں چکھتے چکھتے ذائقہ جاتا رہازندگی زہر ہلاہل ہے کہ رس کھلتا نہیں
جو دے رہا ہے تو دے شوق سے جھجھک کیسیمجھے ہے زہر ہلاہل سے اجتناب کہاں
چپ نہ ہوگا ہے ولیؔ وقت کا اپنے سقراطکچھ علاج اس کا نہیں زہر ہلاہل کے سوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books