aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ishaaraat"
عشرت آفریں
born.1956
شاعر
عشرت قادری
born.1926
عشرت کرتپوری
born.1924
عشرت ظفر
born.1944
عشرت معین سیما
born.1968
امرت لعل عشرت
عشرت صفی پوری
عشرت ناہید
مصنف
عشرت لکھنوی
1868 - 1940
عشرت رومانی
died.2021
عشرت صغیر
born.1989
عشرت رحمانی
1910 - 1992
طلعت اشارت
عشرت جہاں طرب
عشرت ظہیر
born.1953
بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر باتعبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
گر کہے غمزہ کسے قتل کروںتو اشارت سے بتاتے ہیں مجھے
جو بھی کہنا ہے کہو صاف شکایت ہی سہیان اشارات و کنایات سے جی ڈرتا ہے
کوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوامگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تودیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات!
इशारा اِشارا
رک : ' اشارہ ' .
عربی
इशारात اِشارات
اشارہ جس کی یہ جمع ہے
इशारा اِشارَہ
انگلی ہاتھ یا آنکھ وغیرہ کی حرکت سے کسی محسوس اور ظاہر شے یا شخص کو دکھانے یا بتانے کا عمل
इशारत اِشارَت
اشارہ جو اس کی تخفیف اور زیادہ مستعمل ہے، خصوصاً معشوقانہ ناز و انداز کے چشم و ابرو کی محبت آمیز حرکت، غمزہ، کرشمہ
اشارات تنقید
سید عبداللہ
تنقید
مقابیس المجالس
خواجہ غلام فرید
تصوف
اشارات فریدی
چشتیہ
اشارات غم
نجم آفندی
مرثیہ
مطالعۂ تلمیحات و اشارات اقبال
اکبر حسین قریشی
قرآنی اشارات
خواجہ حمید احمد حسینی
اسلامیات
اشارات
جوش ملیح آبادی
مضامین
اشارات جغرافیہ
مجلس نصاب کتب
جغرافیہ
مولانا جلال الدین رومی کی سوانح حیات پر چند اشارات
نامعلوم مصنف
دور حاضر کے سیاسی اور اقتصادی مسائل اور اسلامی تعلیمات و اشارات
سید محمد میاں
تلمیحات و اشارات حافظ
ڈاکٹر ذاکر حسین
اشارات عرفان
مولوی شاہ وحید الدین
تلمیحات و اشارات اقبال
اقبالیات تنقید
دور حاضر کے سیاسی اور اقتصادی مسائل
ہندوستان
فارسی و اردو ادب میں تلمیحات و اشارات
پروفیسر مجیب الرحمن
زبان و ادب
کوئی ہم راز تو پاؤں کوئی ہمدم تو ملےدل کی دھڑکن کے اشارات کسے پیش کروں
کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیںدھرا کیا ہے اشارات نہاں میں
جب نگاہوں کے اشارات بدل جاتے ہیںخود بہ خود پیار کے جذبات بدل جاتے ہیں
کچھ اور بھی تو ہو ان اشارات کے سوایہ سب تو اے نگاہ کرم بات بات بات
5یاں تک سخن تازہ کیا طبع نے پیدا
اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سےعاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے
اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گییہ دور اشارات و کنایات نہیں ہے
ہستی و عدم کیا ہیں بجز جنبش ابرواے جان کنایات اشارات کیے جا
دل لبھانے کے بھی انداز ہوا کرتے ہیںمست آنکھوں کے اشارات سے ڈرتے کیوں ہو
کچھ اشارات نہاں ہوں تو نگاہ ناز کےبھانپ لیں گے ہم یہ محفل رشک خلوت بھی تو ہو
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالمکرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
کر مجلس خوباں میں ذرا سیر کہ باہمہوتا ہے عجب ان کے اشارات کا عالم
اہل الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیںکس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوشؔ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books