aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jalva"
وجے ولاس ،جالنہ
ناشر
ضیا جالوی شمسی
مصنف
شمس الضحیٰ شمس جالوی
ضیاء جالوی
مدیر
سب کمیٹی جلسۂ اتحادیہ، آگرہ
ستیہ نند جاوا
شاعر
تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں
جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہےجوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میںلیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں
یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیاکہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا
بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
حسن کے جلوے ہم سب نے اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور اپنے اپنے حساب سے، لیکن ایک تخلیق کار جلوۂ حسن کو کن کن صورتوں میں دیکھتا ہے اور اس کے بارے میں کیسے کیسے انکشافات کرتا ہے کیا ہم اس سے واقف ہیں ؟ اگر نہیں تو یہ انتخاب آپ ہی کے لئے ہے ۔ اسے پڑھئے اور جلوؤں کی چکاچوند سے لطف اٹھائے ۔
जल्वा جَلْوا
رک : جلوہ
जल्वा جَلْوَہ
نمائش، نظارہ، دیدا، اپنے آپ کوخاص انداز سے دکھانا، اپنے تئیں ظاہر کرنا، سامنے آنا
عربی
जला جَلا
ترک وطن
سنسکرت, عربی
जलता جَلتا
(کہاروں کی اصطلاح) آگ
سنسکرت
جلوۂ دانش فرنگ
عبدالرحیم قدوائی
مضامین
جلوۂ داغ
احسن مارہروی
سوانح حیات
جلوۂ طور
حافظ سید محمد اسحاق
اسلامیات
مبارک عظیم آبادی
مجموعہ
تذکرہ جلوہ خضر
صفیر بلگرامی
تاریخ
جلوۂ احسن
سید رفیق مارہروی
جلوہ آرائیاں
احمر جلیسری
غزل
تذکرہ جلوہ خضر (حصہ-001)
شمارہ نمبر۔005
شریف خاں آزاد
Oct 1908جلوہ یار
تذکرہ جلوۂ خضر
تذکرہ
مثنوی جلوہ اختر
محسن الملک
مثنوی
جلوہ ہائے صد رنگ
عبادت بریلوی
جلوہ ایثار
پریم چند
ناول
عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
جو رعنائی نگاہوں کے لیے فردوس جلوہ ہےلباس مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر
جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہےروز بازار جاں سپاری ہے
گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
حسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوں
جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیابلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بند
دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانیغیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے
ہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گرتاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنور
کئی روز میں آج وہ مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نمامجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا
چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نےوہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
ساقی بہ جلوہ دشمن ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوش ہے
تیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیل
تیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حورجلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books