aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kataa.n"
اشہد بلال ابن چمن
born.1980
شاعر
چرن سنگھ بشر
born.1957
مرزا ظہیرالدین اظفری
1760 - 1819
ز خ ش
1894 - 1922
رابعہ پنہاں
1906 - 1972
زاہدہ خاتون زاہدہ
1915 - 1982
سمیعہ نسیم
کمل کٹاریہ کرن
born.1984
خاقان خاور
1935 - 2001
احمد افتخار خٹک
born.1991
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
مصنف
کرن بیدی
born.2002
چمن لال چمن
1934 - 2019
ادیب سمیع چمن
مطبوعات چٹان، لاہور
ناشر
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوںمگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹےکس گھڑی سر پہ یہ لٹکی ہوئی تلوار گرے
اک پرندہ ابھی اڑان میں ہےتیر ہر شخص کی کمان میں ہے
چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورتپکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو
جوشش خوں نے اپنے فن کا حسابایک چپ اک چٹان میں رکھا
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
कताँ کتاں
السی، السی کا بیج، السی کے درخت کے ریشے سے بنا ہوا کپڑا
فارسی
कहाँ کَہاں
کس جگہ، کس طرف، کدھر
ہندی
कराँ کَراں
کنارہ، حد، انتہا
बयाँ بیاں
جزو اول کے مفہوم کا سا بیان یا کلام رکھنے والا. جیسے : اعجاز بیان ، شیریں بیاں (رک)
آخری چٹان
نسیم حجازی
ناول
مٹی، ریت، چٹان
بیکل اتساہی
مجموعہ
چٹان اور پانی
فضیل جعفری
شمارہ نمبر-005
مسعود شورش
Feb, Mar 1988چٹان، لاہور
چٹان
جلتی چٹان
گلشن نندہ
معاشرتی
صبر کی چٹان
محمد افتخار کھوکھر
افسانہ
آخری چٹان تک
ستیہ پال آنند
شیشے کی چٹان
سراج انور
شاعر اور چٹان
پرتھوی ناتھ شرما
موم کی چٹان
کرشن چندر
چٹان ریزہ ریزہ
نثار راہی
چٹان اور دوسرے افسانے
اوپندر ناتھ اشک
006
ایس۔ ایچ۔ شمس حجازی
Nov 2002آخری چٹان، نئی دہلی
ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کییہ بوجھ وہ ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے
آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں ترتصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
باہر سے چٹان کی طرح ہوںاندر کی فضا میں تھرتھری ہے
وہ خوش نصیب پرندہ ہے جو اڑان میں ہےکہ تیر نکلا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے
ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاکسیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
پھول پانی میں گر پڑے سارےاچھی جنبش چٹان میں آئی
تمام تیشہ بدست حیرت میں گم ہوئے ہیںچراغ سے کاٹ دی ہوا کی چٹان میں نے
میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھاپھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا
تیر جیسے کمان کے آگےموت کڑیل جوان کے آگے
شل انگلیوں سے تھام رکھا ہے چٹان کوچھوٹا جو ہاتھ سے یہ کنارا تو میں گیا
کوئی پیکر پکارتا ہے مجھےسامنے کی چٹان تک ہو آؤں
کھڑی ہے جو کہ طوفاں میںوہی چٹان بھی ہوں میں
ہیں مستحیل خاک سے اجزائے نو خطاںکیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا
عشق گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھاپرتو مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
جلا رہا ہے مرے جسم کو مرا ہی کمالمیں ایک تیر ہوں ٹوٹی ہوئی کمان میں ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books