aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kataa.n"
مرزا ظہیرالدین اظفری
1760 - 1819
شاعر
کمل کٹاریہ کرن
born.1984
کرن بیدی
born.2002
کرن سنگھ کرن
راجہ کرن پرشاد کرن
کپتان واحد بخش
مصنف
کیپٹن اختر راز
کپتان جیمس ٹاڈ
کاہن سنگھ جمال
رام کرن داس کھتری
کیرن آرمسٹرانگ
متین کرتان
ناشر
Qazi Kaadan And Other Poets
مسعود دکن پریس، کالی کمان
ملا قاطعی ہروی
ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاکسیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
عشق گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھاپرتو مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
یوں سر راہ بھی پرسش حال کی اس زمانے میں فرصت کسی کو کہاںآپ سے یہ ملاقات رسمی سہی اتنی زحمت بھی کچھ کم عنایت نہیں
یہ اشتیاق شہادت میں محو تھا دم قتللگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم
شیطنت کیوں ہے رشک ماہ منیرکیوں رسالت کتاں ہے کیا معلوم
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
कताँکتاں
فارسی
السی، السی کا بیج، السی کے درخت کے ریشے سے بنا ہوا کپڑا
कहाँکَہاں
ہندی
کس جگہ، کس طرف، کدھر
कराँکَراں
کنارہ، حد، انتہا
बयाँبیاں
جزو اول کے مفہوم کا سا بیان یا کلام رکھنے والا. جیسے : اعجاز بیان ، شیریں بیاں (رک)
تاریخ راجستھان، حالات مارواڑ
تاریخ
یہاں تک روشنی آتی کہاں تھی
شارق کیفی
غزل
تاریخ راجستھان حالات مارواڑ
تذکرہ حضرت قاضی راجا المعروف شاہ راجو قتال
شاہ ابوالخیر
تذکرہ
کلیات بیدل (جلد-002)
عبد القادر بیدل دہلوی
شاعری
قطعات و رباعیات اکبر
اکبر الہ آبادی
انداز بیاں اور
عاصم پیرزادہ
مزاحیہ
خرابی کہاں ہے؟
علامہ یوسف القرضاوی
اخلاقیات
ہم کہاں کے سچے تھے
عمیرہ احمد
ماڈرن سلائی و کٹائی
ماسٹر نندن لال ملتانی
دیگر
مرثیہ
میر انیس
قطع کلام
مجتبی حسین
مضامین
قتل : ضابطہ تفتیش
انعام الرحمٰن
قطعات تاریخ
شان الحق حقی
تاریخ گوئی
مخزن اکسیر خفیہ
دیوان کاہن چند
طب یونانی
یار کا ناسخؔ پھٹا ہے پیرہن تو عیب کیاہے کتاں کو چاک کرنا کام نور ماہ کا
پیری میں مجھ کو عشق حسین جواں ہوابار دگر کبادے میں زور کماں ہوا
دور کی راہ ہے ساماں ہیں بڑےاتنی مہلت ہے کہاں کیا ہوگا
رات کو دیکھ کے اے ماہ تجھے غیر کے ساتھطعنہ زن دل کا مرے گل کے کتاں پر آیا
ماہتاب اور کتاں کا عالم ہےعارض دوست پر نقاب عبث
رقیبوں کے دل چاک مثل کتاں ہوںگزار اس طرف ہو اگر اپنے رہ کا
سبزہ زاروں کی شرافت سے نہ کھیلو قطعاًتم ہوا ہو تو خلاؤں سے لپٹ کر دیکھو
لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گاپردہ کھل جائے گا ہر پردہ کتاں ہو جائے گا
کوئی ڈھونڈھتا کتاں کے تئیں یارو پر ہے غمملتا کہیں نہیں دل آگاہ کیا کرے
سب جھوٹ نقاب رخ پہ کیوں کر ٹھہریثابت رکھتا ہے کب کتاں کو مہتاب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books