aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kharaabaat"
کرامت علی کرامت
born.1936
شاعر
سیدہ فرحت
1938 - 2003
کرامت بخاری
عابدہ کرامت
مصنف
کرامت علی شہیدی
died.1840
کرامت غوری
کرامت علی جونپوری
1800 - 1873
مولوی سید خیرات حسن
کرامت گردنیری
خیرات ندیم
1922 - 1989
خراباتی مرادآبادی
میر کرامت علی خاں
ناشر
میر کرامت علی
کرامت شیر
حاجب خیرات دہلوی
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغریہ کیسی شام خرابات ہو گئی پیارے
مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیےبھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
اس خرابات کا یہی ہے مزہکہ رہے آدمی مدام خراب
در و دیوار خرابات وہی ہیں لیکننہ کہیں قلقل مینا ہے نہ گل بانگ سبو
ख़राबात خَرابات
شراب خانہ، میخانہ، میخواروں کا اڈہ
عربی
ख़राबा خَرابا
ویرانہ، تباہ برباد
ख़राबा خَرابَہ
ویران غیرآباد
فارسی
ख़यालात خَیالات
افکار، احساسات
خرابات
عبد الحمید عدم
غزل
خانۂ خمار و خرابات میکش
پنڈت سورج بھان
دیوان
خرابات میکش
شمع خرابات
خواجہ محمد شفیع دہلوی
ناول
فن خطابت
شورش کاشمیری
خطبات
بکھرے خیالات
علامہ اقبال
یاد داتشت / ڈائری
قرابادین مجیدی
دفتر جامعہ طبیہ، دہلی
طب
خیالات العشاق
قاضی حمیدالدین ناگوری چشتی
ترجمہ
القرابا دین
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
خیابان ادب
عظیم الحق جنیدی
انتخاب
ترجمہ اردو قرابا دین کبیر
سید محمد حسن خان
مطبوعات منشی نول کشور
کرامات اولیاء
سید صوفی وارثی میرٹھی
سماع اور دیگر اصطلاحات
حضرت بایزید بسطامی کی علمی کرامت
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
عبد السلام ندوی
آباد خرابہ
کشور ناہید
شاعری
دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیںباطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو
پھر وہی جاں بلبی لذت مے سے پہلےپھر وہ محفل جو خرابات نہ ہونے پائی
یوں چٹکتی ہیں خرابات میں جیسے کلیاںتشنگی ساغر لبریز سے ٹکراتی ہے
مست آنکھوں سے بھی ہم پیاس بجھا سکتے ہیںبخشش میر خرابات ضروری تو نہیں
ہے خرابات صحبت واعظلوگ ناحق خراب ہوتے ہیں
نکلی جو تھی تو بنت عنب عاصمہ ہی تھیاب تو خراب ہو کے خرابات بھی گئی
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سےکل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا
لے جاتی ہے اس سمت ہمیں گردش دوراںاے دوست خرابات سے کیا کام ہمارا
چھوٹے بھائی سے بھی جذبات نہیں ملتے ہیںخون ملتا ہے خیالات نہیں ملتے ہیں
شام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیشخوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات کی رات
وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالمنغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم
آئین خرابات معطل ہے تو کچھ روزاے رند بلا نوش و تہی جام ترس بھی
یہی کچھ ہے لے دے کے میرے لیے اس خرابات شام و سحر میں یہی کچھیہ اک مہلت کاوش درد ہستی یہ اک فرصت کوشش آہ و نالہ
دلدارئ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہاب شہر میں ہر رند خرابات ولی ہے
کہتا ہے عدمؔ مجھ کو ہر اک گوشۂ ہستیآیا ہے تو کچھ سیر خرابات کیے جا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books