aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khulnaa"
جمیلہ خدا بخش
1861 - 1921
شاعر
خدا بخش لائبریری،پٹنہ
عطیہ کار
مایا کھنّہ راجے بریلوی
born.1942
بھارت چند کھنہ
1912 - 1995
مصنف
ثمر خانہ بدوش
born.1985
سید میراں جی خدا وند خدا نما
1625 - 1672
گلشن کھنہ
1934 - 2019
خدا بخش خاں
1842 - 1908
کتب خانہ آصفیہ، حیدرآباد دکن
ناشر
کتب خانہ انجمن ترقی اردو، اردو بازار، دہلی
نوری کتب خانہ، لاہور
کتب خانہ شاہ نامہ اسلام،لاہور
کتب خانہ رحیمیہ، دہلی
خدا بخش پبلک لائبریری، رام پور
امامیہ کتب خانہ، لاہور
ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلناوہ زلف صرف مرے ہاتھ سے سنورنی ہے
آنکھوں میں دھواں سا چھا جانا سانسوں میں ستارے سے کھلنارستے میں تمہارا مڑ مڑ کر تکنا وہ مجھے جاتے جاتے
عقدۂ پیچ و خم زلف کا کھلنا معلومراز الم سے ہے یہ سلسلۂ راز جدا
دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھابخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا
खुलना کُھلْنا
بازار میں بھاؤ کھلنا ، کسی چیز کا دام طے ہونا (بالخصوص شروعات میں) ۔
سنسکرت
ख़ुला' خُلاع
مِرگی
عربی
खुला کُھلا
کلی سے پھول بنا، کھلا ہوا، شگفتہ، تراکیب میں مستعمل
ہندی
खुदना کُھدْنا
۱. کسی آلے وغیرہ سے زمین یا کسی اور شے کی سطح کا ہٹایا جانا ، گڑھا کیا جانا ، کھودا جانا.
ادھ کھلا دریچہ
شہزاد احمد
غزل
مفتی اعظم اور ان کےک خلفاء
محمد شہاب الدین
تاریخ الخلفاء
علامہ جلال الدین سیوطی
کھلونا کی منتخب کہانیاں
محمد قاسم صدیقی
افسانہ
تذکرۂ خواجہ باقی باللہ
نسیم احمد فریدی امروہی
یادوں کے جگنو
خود نوشت
کھلا
جوگندر پال
خلفاء اربعہ
خواجہ عبدالحئی فاروقی
اسلام کی عظیم بزرگ ہستیاں خلفاء رسول
خان محمد عاطف
پھول کھلنے دو
اشفاق احمد
ماہنامہ کھلونا: ایک انتخاب
محمد اسد اللہ
واجدہ تبسم
نسائیت
گرہ کھلنے تک
شہزاد نیر
ٹھنڈی بجلیاں
طنز و مزاح
ایک کھلا راز
مسعود احمد برکاتی
یعنی اک لے سے لب ناقد کو کھلنا چاہیئےپنکھڑی پر قطرۂ شبنم کو تلنا چاہیئے
ایک گلچیں کی وحشت بھری آنکھ ہےیہ چٹکنا یہ کھلنا
مے خانہ پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے بیکارکھلنا ہو تو کھل جائے برسنا ہو تو برسے
خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہےپھر بھی کہیے کہ بس اب کھلتا ہے اب کھلتا ہے
اس مرتبہ چھائی ہے کچھ ایسی گھٹا جس سےکھلنا بھی نہیں ہوتا برسا بھی نہیں جاتا
پہنچے تھے ہم بھی شہر طلسمات میں مگروہ اسم جس سے کھلنا تھا در بھولنے لگے
ایک دن اس لمس کے اسرار کھلنا جسم پرایک شب اس خاک میں برق و شرر کا جاگنا
کھلنا تھا اپنے عیب و ہنر کا بھرم کہاںیہ بھی ہوا تو قافیہ پیمائی سے ہوا
غنچہ کہوں یا درج گہر تیرے دہن کوکھلنا نہیں اس عقدۂ مشکل نے ستایا
مجھ پہ تہمت صنم پرستی کیشیخ صاحب خدا خدا کیجے
ویسے تو آسان نہیں تھا کھلنا بند کواڑوں کاداخل ہونا دل میں لیکن دستک سے آسان ہوا
زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوںاب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا
کاغذ کی صداقت ہوں گو وقف کتابت ہوںصفحوں سے عبارت ہوں کھلنا ہے محال اپنا
آسمانوں کا بلانا نہ قفس کا کھلناکیوں پرندے کو رہائی نہیں دیتا کچھ بھی
دھنک سا چہرہ اداس ہونا پھر اس پہ بھی وہ شفق سا کھلنایقین مانو کہ ہم سے ناداں انہی دنوں کے جیے ہوئے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books