aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khulnaa"
وشال کھلر
born.1980
شاعر
مایا کھنّہ راجے بریلوی
born.1942
بھارت چند کھنہ
1912 - 1995
مصنف
گلشن کھنہ
1934 - 2019
مطبع اصلاح، کھجوا
ناشر
ایس۔ ایل۔ کھنہ
مترجم
خولہ ربیعہ
بی این کھنہ
دھرم پال کھنہ
امرناتھ کھنہ
مدیر
کرشن لال کھنہ کنول
خالدہ نگار
کے۔ کے۔ کھلر
کے۔ سی۔ کھنّہ
خالصہ پریس، لدھیانہ
ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلناوہ زلف صرف مرے ہاتھ سے سنورنی ہے
آنکھوں میں دھواں سا چھا جانا سانسوں میں ستارے سے کھلنارستے میں تمہارا مڑ مڑ کر تکنا وہ مجھے جاتے جاتے
عقدۂ پیچ و خم زلف کا کھلنا معلومراز الم سے ہے یہ سلسلۂ راز جدا
دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھابخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا
खुलनाکُھلْنا
سنسکرت
بازار میں بھاؤ کھلنا ، کسی چیز کا دام طے ہونا (بالخصوص شروعات میں) ۔
खुदनाکُھدْنا
ہندی
۱. کسی آلے وغیرہ سے زمین یا کسی اور شے کی سطح کا ہٹایا جانا ، گڑھا کیا جانا ، کھودا جانا.
खुलाکُھلا
کلی سے پھول بنا، کھلا ہوا، شگفتہ، تراکیب میں مستعمل
ख़ुला'خُلاع
عربی
مِرگی
خلاصۂ تعلیم تصوف
خواجہ حسن نظامی
فلسفہ تصوف
ادھ کھلا دریچہ
شہزاد احمد
غزل
شہید بھگت سنگھ
کے۔کے۔کھلر
تاریخ
اردو خلاصہ شرح نخبۃ الفکر
محمد فضل کریم
اردو ناول کا نگارخانہ
ناول تنقید
در لاثانی
محمد ہدایت علی نقشبندی
خطوط
خلاصۂ نظام ربوبیت
غلام احمد پرویز
اسلامیات
امیر خسرو اور ہمارا مشترکہ کلچر
تنقید
خلاصہ تورات
فیض احمد فیض
کھلونا کی منتخب کہانیاں
محمد قاسم صدیقی
افسانہ
خلاصۂ تاریخ
حامد حسن قادری
زبان و ادب
کھلا
جوگندر پال
خلاصہ طبقات الارض ہند
خلاصہ رامائن
پنڈت چندر چوڑ
رزمیہ
یعنی اک لے سے لب ناقد کو کھلنا چاہیئےپنکھڑی پر قطرۂ شبنم کو تلنا چاہیئے
مے خانہ پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے بیکارکھلنا ہو تو کھل جائے برسنا ہو تو برسے
ایک گلچیں کی وحشت بھری آنکھ ہےیہ چٹکنا یہ کھلنا
خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہےپھر بھی کہیے کہ بس اب کھلتا ہے اب کھلتا ہے
اس مرتبہ چھائی ہے کچھ ایسی گھٹا جس سےکھلنا بھی نہیں ہوتا برسا بھی نہیں جاتا
پہنچے تھے ہم بھی شہر طلسمات میں مگروہ اسم جس سے کھلنا تھا در بھولنے لگے
ایک دن اس لمس کے اسرار کھلنا جسم پرایک شب اس خاک میں برق و شرر کا جاگنا
کھلنا تھا اپنے عیب و ہنر کا بھرم کہاںیہ بھی ہوا تو قافیہ پیمائی سے ہوا
غنچہ کہوں یا درج گہر تیرے دہن کوکھلنا نہیں اس عقدۂ مشکل نے ستایا
سخت مشکل ہے یار کا کھلنایہ گرہ کس طرح سے وا کیجے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books