aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kotaa"
نجمہ شاہین کھوسہ
مصنف
نصیر کوٹی
شاعر
خالد کوٹی
born.1943
شفیق کوٹی
1903 - 1976
شاہ میر رائے چوٹی
died.1772
مدیر
تابش دھرم کوٹی
بہار کوٹی
کوکا پنڈت
محمد مبین کیفی چریا کوٹی
محمود انور کھوت
فاروق احمد راہی چریا کوٹی
قلات پبلشرز، کوئٹہ
ناشر
دائرہ پریس چھتہ بازار
عین الحق فرید کوٹی
غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیزمیرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا
یہ تابشؔ کیا ہے بس اک کھوٹا سکہمگر یہ کھوٹا سکہ چل رہا ہے
مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہےجرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا
لٹا کے سینے پہ چنچل کو پیار سے ہر دممیں گدگداتا تھا ہنس ہنس وہ ضعف کھوتا تھا
جب چار نگاہیں کر کے کوئی محو تبسم ہوتا ہےجب کوئی محبت کا مارا اس کیف میں پڑ کر کھوتا ہے
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
कटा کٹا
قتل
ہندی
किता کِتا
کہتا
कता کَتا
(موسیقی) یکتالۂ ٹھیکے کی ایک ضرب یا تال
होटा ہوٹا
جھونٹا ، ہلکورا ؛ لہر ؛ ترنگ ؛ مستی.
چھوٹا بچہ چھوٹی کتاب
نذیر فتح پوری
افسانہ
کھوٹا سکہ
شین مظفرپوری
ناول
چھوٹا جام جہاں نما
تاریخ
سب سے چھوٹا غم
عابد سہیل
کھوٹہ پیسہ
فلمی نغمے
کھوٹا سونا
مشتاق راہی
مضامین
خفیہ کوک شاستر
جنسیات
اردو زبان کی قدیم تاریخ
ایرانی کوک شاستر
عظمت علی حسرت لکھنوی
کھویا ہوا سا کچھ
ندا فاضلی
مجموعہ
چوٹ
دت بھارتی
معاشرتی
قطعات و رباعیات اکبر
اکبر الہ آبادی
شاعری
انداز بیاں اور
عاصم پیرزادہ
مزاحیہ
رم جھم
احمد ندیم قاسمی
قطعہ
گزشتہ بھیونڈی
خطا کار سے درگزر کرنے والابد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
رنج و ملال و کیف و نشاط و بہار عمرجو کچھ مجھے ملا اسے کھوتا چلا گیا
نہ پوچھ سود و زیاں کاروبار الفت کےوگرنہ یوں تو نہ پانا تھا کچھ نہ کھوتا تھا
تدبیر کا کھوٹا ہے مقدر سے لڑا ہےدنیا اسے کہتی ہے کہ چالاک بڑا ہے
وہ میری زندگی بھر کی کمائی ہی سہی لیکنمیں کیا کرتا وہی سکہ اگر کھوٹا نکل آیا
یہ شہر تو لگتا ہے کباڑی کی دکاں ہےکھوٹا بھی اسی مول میں بکتا ہے کھرا بھی
رنج و سرور و کیف جوانی کے چار دنکیا کیا تمہارے عشق میں کھوتا رہا غزال
وفا کا کھوٹا سکہ کب تک چلتا طورؔاچھا ہوا جو اپنا پرایا بھول گیا
جان سکوں کہ اچھا کیا ہےکھرا ہے کیوں کر کھوٹا کیا ہے
کوئی نہ جانے کیوں چین کھوتا ہےکیا کروں ہائے کچھ کچھ ہوتا ہے
چمن کا لطف کھوتا ہے چمن میں اجنبی ہوناخزاں بھی اپنے گلشن کی بھلی معلوم ہوتی ہے
یہ سیاست کا ہے بازار یہاں پر یاروکھوٹا سکہ بھی کھرے داموں میں چل جاتا ہے
کوئی پٹکتا ہے سر کوئی جان کھوتا ہےترے خرام نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا
کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچروز عدالت میں چلتا ہے کھوٹا سکہ جھوٹا سچ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books