aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kumak"
دشینت کمار
1933 - 1975
شاعر
خمار بارہ بنکوی
1919 - 1999
کمار وشواس
born.1970
شیو کمار بٹالوی
1937 - 1973
نریش کمار شاد
1927 - 1969
وپل کمار
born.1993
ابھیشیک کمار امبر
born.2000
کمار پاشی
1935 - 1992
شین کاف نظام
born.1947
سوپنل تیواری
born.1984
تری پراری
born.1986
کلدیپ کمار
born.1987
ترکش پردیپ
سریندر پرکاش
1930 - 2002
مصنف
کرشن کمار طورؔ
born.1933
اس کا لشکر جہاں تہاں یعنیہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے
میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گااتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا
یہ کیسی بے حسی ہے کہ پتھر ہوئی ہے آنکھویسے تو آنسوؤں کی کمک بارہا ملی
شجاعؔ شاعری ہوتی ہے ذات کے بل پرمری کمک پہ کوئی خاندان تھوڑی ہے
یہ کیسی بات مرا مہربان بھول گیاکمک میں تیر تو بھیجے کمان بھول گیا
कुमक کُمَک
وہ مزید فوج یا جنگی ساز و سامان جو میدان جنگ میں سپاہیوں کی مدد کے لیے بھیجی جائے، فوجی امداد
ترکی
चमक چمک
جھلک ، روشنی ، تابانی.
ہندی
खुमार کُھمار
رک: کمھار.
ख़ुमार خُمار
نشہ اترنے کے وقت درد سر اور ہاتھ پاؤں ٹوٹنے کی اور اعضا شکنی کی کیفیت، وہ مستی جو نشۂ شراب کا زرو ٹوٹنے کے بعد باقی رہ جاتا ہے
عربی
کمک اردو
مولوی محمد اسمٰعیل
کمک تاریخ
اسماعیل میرٹھی
ہند آریائی اور ہندی
سونیتی کمار چٹرجی
تاریخ
آتش تر
غزل
رقص مے
دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی
ونود کمار شکل
ناول
پنچ تنتر کی کہانیاں
شیو کمار
ادب اطفال
دلیپ کمار
سعید احمد
تفریحات
نظامی بنسری
راجکمار ہردیو
چشتیہ
حدیث دیگراں
مجموعہ
افسانہ
ترجمہ
سرقہ اور توارد
ہندوستان کے زمانۂ قدیم و وسطیٰ کے کتب خانے
بمل کمار دت
پھر پس پسپائی میرا حوصلہ زندہ ہواآسماں سے پھر کوئی تازہ کمک آنے کو ہے
جب منڈیروں پہ پرندوں کی کمک جاری تھیلفظ تھے لفظوں میں احساس کی سرداری تھی
ہر قدم تازہ کمک ملتی رہی اپنے خلافمیرا اپنا ہی عدو میرے علاوہ کون تھا
کوئی دھول اڑتی تھی راستوں پہ نہ کھل سکاوہ غنیم تھا کہ کمک غبار میں کون تھا
مچا ہوا ہے بدن میں لہو کا واویلاکہیں سے کوئی کمک لاؤ زہر کاری ہے
لرزش لب کو زباں کوئی کمک دے نہ سکیپوچھنے پر بھی تو اعلان تمنا نہ ہوا
اور آگ کے فوارے کی کمک لے کرجو کسی قدیم سیاف کی
اب میں ہوں فقط اور کوئی ہانپتا صحراآئی تھی مرے ساتھ ان اشکوں کی کمک تک
گھر کی دیوار پہ کروا کے سفیدی پیلیچاہتا ہوں مری آنکھوں میں چمک آ جائے
ہوائے صبح وطن اک ذرا کمک کہ کہیںدکھائی دوں لب احباب پر کھلا ہوا میں
گھسے مردہ لفظوں کی کوئی کمک تک نہ آئیجو آئی تو پھر ہونٹ سل سے گئے
اگر ہے عزم روم و زنگ کی تسخیر کا بارےکمک تم انکھڑیوں اپنی کی نادر شاہ سے مانگو
پہلے دیکھتا ہوں میں کمک خیالوں کیپھر لفظوں کے لشکر دیکھنے لگتا ہوں
بھیج کچھ تازہ کمک میرے مسافر کے لئےپھر اترتا ہے مرے دشت میں لشکر کوئی
لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھےمگر حیات گوارا نہیں دھنک کی مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books