aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "laala"
لالہ مادھو رام جوہر
1810 - 1889
شاعر
لالہ رکھا رام برق
لالہ کانجی مل صبا
born.1792
ماہ لقا چندا
1768 - 1824
جگر بریلوی
1890 - 1976
لالہ موجی رام موجی
born.1789
لالہ چھنو لال دلگیر
1781 - 1848
لالہ ٹیکا رام
بابو لاڈلی لال لائق
born.1894
مصنف
فخر لالہ
born.1983
بدھ سنگھ قلندر
died.1780
لالہ انوپ چند آفتاب پانی پتی
1896 - 1968
لال چند فلک
1887 - 1967
فکر تونسوی
1918 - 1987
کنہیا لال کپور
1910 - 1980
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھا
دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چلپھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمننہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے
چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگا
ریختہ نے جواہر لال نہرو کی اردو ترجمہ شدہ کتابوں کا انتخاب تیار کیا ہے جس سے ان کی سیاست، فلسفہ اور فکروفن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے
شاعری کی دنیا میں کرشن کا روپ وہ روپ ہے، جسے میرا بائی اور سورداس نے لکھا ہے . اردو شاعروں نے اس روایت کو بخوبی نبھایا ہے ، جسے یہاں دی گئی نظموں کو پڑھ کر سمجھا جا سکتا ہے ...
کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر
लाया لایہ
دیوار کا ردّا، کپڑے کی تہہ، ایک قسم کا کاغذ
فارسی
लाला لالا
وہ ملازم جو مالک کے بچّوں کی تربیت کرے
سنسکرت
लाला لالَہ
ایک نہایت سُرخ پھول جس کے درمیان سیاہ داغ ہوتا ہے ، گُلِ لالہ.
वाला والَہ
۔(بفتح سوم وخفائے چہارم۔ع۔ بکسر لام وظہور ہا بروزن کارہ۔ اسم فاعل کاصیغہ والہ سے۔فارسیوں نے بفتح لام وخفائے ہا بروزن لالہ استعمال کیا۔؎
عکس لالۂ طور
علامہ اقبال
شاعری
جدید اردو گریمر
لالہ تیج رام
لالہ صحرا
رائیڈر ہیگرڈ
ناول
گولڈن تاریخ ہندوستان
لالہ جگن ناتھ کمال
ہندوستانی تاریخ
تاریخ ہند
لالہ رام پرشاد
خمخانہ جاوید
لالہ سری رام
مطبوعات منشی نول کشور
لالہ طور
آریہ سماج کی تاریخ
لالہ لاجپت رائے
غلامی کی علامتیں اور غلامی کے نتائج
مضامین
تذکرہ
مذاہب اور انسانیت
لالہ ہردیال
بیداری ہند
لالہ متصدی لعل ہندی
سیاسی تحریکیں
جغرافیہ پنجاب-دہلی
لالہ رنگ لال
جغرافیہ
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیاتاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہےہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہے
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمد فصل لالہ کاری ہے
ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دے
گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہخودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ
خود ہی مثال لالۂ صحرا لہو لہواور خود فرازؔ اپنے تماشائیوں میں ہوں
گل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفن
تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاںیہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاں
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمنمجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
اس کی باتیں کہ گل و لالہ پہ شبنم برسےسب کو اپنانے کا اس شوخ کو جادو آئے
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائیخیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیےہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books