تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "mashaa.iiyo.n"
انتہائی متعلقہ نتائج "mashaa.iiyo.n"
مزید نتائج "mashaa.iiyo.n"
نظم
برسات کی بہاریں
بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں
جھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں
نظیر اکبرآبادی
نظم
وہ کیسی عورتیں تھیں
جو اپنی بیٹیوں کو سوئیٹر بننا سکھاتی تھیں
سلائی کی مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیں
اسنی بدر
غزل
حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے
مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے