aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mujarrad"
ابن انشا
1927 - 1978
شاعر
ساغر صدیقی
1928 - 1974
میراجی
1912 - 1949
نظیر اکبرآبادی
1735 - 1830
سلیم کوثر
born.1947
فانی بدایونی
1879 - 1941
رئیس امروہوی
1914 - 1988
حکیم ناصر
1947 - 2007
آبرو شاہ مبارک
1685 - 1733
واجد علی شاہ اختر
1823 - 1887
خورشید رضوی
born.1942
مبارک صدیقی
born.1963
مبارک عظیم آبادی
1896 - 1959
جہانگیر نایاب
born.1985
حفیظ بنارسی
1933 - 2008
بنارس تری سب مجرد ادائیںحسیں موت پا کر جیے جا رہی ہے!
وصل جاناں ہے صیغۂ تہمتکہ مجرد ہیں ہم مزید نہیں
تجدید مثالی میں ہے تفرید مجردتوحید ہے یہ اور ہیں بے صرفہ خیالات
اوقات مجرد کی کس طرح بسر ہووےجنگل ہے یہ بکتی ہے یاں نان نہاری کیا
ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میںپیوند لگا دیتا میں نفس مجرد میں
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر
ریختہ اس استقلال و استقامت اور حق کے لئے قربانی کے جذبے کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
मुजर्रदمُجَرَّد
عربی
اکیلا، تنہا، جریدہ
मुजर्रदीمُجَرَّدی
تجرد، تنہائی، آزادی، مجردیت
मुजर्रदाمُجَرَّدَہ
۱۔ وہ جو مجرد ہو ، غیر مادی ۔
मुजर्रबمُجَرَّب
آزمایا ہوا، آزمودہ، تجربہ کیا ہوا، جیسے: دوا وغیرہ
اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم
حنیف کیفی
نظم تنقید
مغل دربار
مبارک علی
تاریخ
محمد اقبال شکوہ و جواب شکوہ
علامہ اقبال
شاعری
تذکرہ اولیائے حیدرآباد
سید مراد علی طالع
برطانوی راج
تعلیمی نفسیات کے نئے زاویے
مسرت زمانی
تعلیم
علماء اور سیاست
مضامین
مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی
شیخ احمد سرہندی
سوانح حیات
ہلال محرم
شیخ ابوالقاسم
مرثیہ
تذکرۂ اولیائے حیدرآباد
جوامع الحکایات و لوامع الروایات
محمد عوفی
حکایات
پدماوت بھاکھا مترجم
ملک محمد جائسی
داستان
تذکرہ اولیاء حیدرآباد
حضرت مشکل آسان ثانی
خط
مقام ہو سویدائے مجرد عالم حیرتمری گم گشتگی سے اب یہ نقشہ ہے جہاں دل تھا
جیتے ہی جی تلک ہیں سارے علاقے سو توعاشق ترا مجرد فارغ ہی ہو چکا ہے
یہ بند مٹھی سے ذرہ ذرہ پھسلتی مٹینظر میں کولاژ اک مجرد
شیشے کے اس پار ابہام مجردکھڑکیوں پر آنسوؤں کی باڑھ
داد دل مجرد جاں اے شوق ستم گر دے اس گل کو صبا جاکر یہ عرض مکرر دے اس وصل کی آتش کو کوئی دیکھ کے ٹھہرے ہیں پرواز نمن اڑ کر رہتے نہیں وہ سردے آئی ہے بہار اب تو صیاد ہے بے تابی جا دیکھیں گلستاں کو گر کھول ہمیں پردے ہنگام جوانی کی پوچھو نہ یہ سرگرمی بہتر جو گزرتی ہے ہر دم بدم سردے اے زاہد ہرجائی مت منع محبت کر یہ بار نہیں ایسا جو سرمستی کو دھر دے ہے نشہ ان آنکھوں سے کیوں کر نہ خمار اترے مینائے دل اے ساقی خالی ہے اگر بھردے جب دل کو دیا تو نے یوں مفت میں اے عارفؔ گر یار ترا چاہے چل جی کو نذر کردے
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کوکہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
اب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارکاک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشادکہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books