aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naayaab"
جہانگیر نایاب
born.1985
شاعر
داغؔ دہلوی
1831 - 1905
نشانت شری واستو نایاب
born.1977
نتن نایاب
born.1981
مصطفیٰ خاں شیفتہ
1806 - 1869
سائل دہلوی
1867 - 1945
سید یوسف علی خاں ناظم
1816 - 1865
نیر مسعود
1936 - 2017
مصنف
امداد امام اثر
1849 - 1933
مردان علی خاں رانا
died.1879
شہزاد نیر
born.1973
ہجر ناظم علی خان
1880 - 1914
نواب معظم جاہ شجیع
آفتاب نواب
born.1996
اکبر عظیم آبادی
born.1869
کیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب
دنیا میں خوشی کا نام نہیں دنیا میں خوشی نایاب سی ہے
لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھیاپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہمجو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
مذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہےوہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئے
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں۔
نقاب کو کلاسیکی شاعری میں بہت دلچسپ طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ محبوب ہے کہ اپنے حسن کو نقاب سے چھائے رہتا ہے اور عاشق دیدار کو ترستا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقاب بھی محبوب کے حسن کو چھپا نہیں پاتا اوراسے چھپائے رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ ایسے اور بھی مزےدار گوشے نقاب پر کی جانے والی شاعری کے اس انتخاب میں ہیں ۔ آپ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
नया نَیا
جدید، تازہ، نو، ابھی کا (پرانے کے مقابل)
سنسکرت
नाया نایا
منطق ۔
नायाब نایاب
نادر
فارسی
नया-नया نَیا نَیا
تازہ تازہ ، ابھی ابھی کا ، بالکل نیا
ہوا کے خلاف
گوہر ادب
نایاب ظہیر
نصاب
راشد، میرا جی، فیض
محمد حمید شاہد
تنقید
دیوان ولی
ولی دکنی
دیوان
دکن زندہ کردم
قیوم صادق
اشاریہ
نایاب کہانی نمبر: اگست: شمارہ نمبر-118
طارق مصطفیٰ صدیقی
چہار رنگ
نایاب کہانیاں
افسانہ
مولوی نذیر احمد کی چار نایاب مطبوعات
اسلم پرویز
تحقیق
گوہر نایاب
سید ارشاد اللہ شاہ
تحفۂ نایاب
منشی اللہ رکھا قریشی
ہمارے درد سانجھے ہیں
نایاب
مجموعہ
دو نایاب زمانہ بیاضیں
آسی الدنی
اردو کی چند نایاب مثنویاں
حامد اللہ ندوی
فرزانہ نصیر
معاشرتی
ملک الشعرا غواصی کا نایاب کلام
محمد علی اثر
بصیرت مجھ میں ہے نایابؔ ایسیمیں ہر قطرے میں گوہر دیکھتا ہوں
دیکھو اب بھی جنس وفا نایاب نہیںاپنی جان پہ کھیلنے والے اب بھی ہیں
رہتا ہوں کس خیال میں نایابؔ ان دنوںکیا کیا میں سوچتا ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
نایابؔ مجھ سے فیض اٹھاتا ہے ہر کوئیکب داغ بد نما ہوں میں اپنے وجود پر
آئنہ رکھ کے سامنے نایابؔپاگلوں کی طرح ہنسوں گا میں
حرکت پہ ہے جمود تو اظہار پر سکوتنایابؔ کس جہان میں رکھا گیا مجھے
نایابؔ انقلاب زمانہ کی ہے دلیلبدلاؤ دیکھتا ہوں میں اپنے وجود میں
میں بحر فکر میں ہوں غرق اس لیے نایابؔگہر مجھے بھی کوئی زیر آب مل جائے
مری بلا سے زمانہ خلاف ہو جائےمیں چاہتا ہوں ترا ذہن صاف ہو جائے
تپا ہوں آتش دوراں میں نایابؔتو اب جا کر کہیں کندن بنا ہوں
سب اپنی ذات میں گم ہیں یہ سوچ کر نایابؔپرائے درد کو کیوں درد سر بنایا جائے
رنج و الم کی بھٹی میں نایابؔ ڈال کرکندن بنا رہا ہوں میں اپنے وجود کو
نایابؔ جب نہیں ہے وفاؤں کا اس کو پاسپھر کیوں تکلفات میں الجھا ہوا ہوں میں
سوچتا ہوں اولی مصرع جب کبھی نایابؔ میںخود کو لکھواتا ہے بڑھ کر مصرع ثانی مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books