aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nadaamat"
نیہا نزاکت
1999 - 2023
شاعر
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
ناشر
کتب خانہ شاہ نامہ اسلام،لاہور
مصنف
نظامت امور مذہبی
نزاکت اللہ خاں فیضی
1917 - 1998
نظارت تالیف و تصنیف جماعت احمدیہ
میر نجابت علی
نظارت نشرواشاعت صدر انجمن احمدیہ قادیان، پنجاب
اندر سروپ دت نادان
1927 - 1999
نواب سر نظامت جنگ
1871 - 1955
نجات اصفہانی
دفتر نظامت طبابت یونانی سرکار عالی
نظام الدین احمد نظامت جنگ
نجابت علی تارڑ
مطبع محکمہ نظامت و طبابت سرکارعالی، حیدرآباد
مدیر
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میں
ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیریتجھے اس پر ندامت ہے نہیں تو
دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوںکہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں
اس عشق نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دلہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ ندامت
پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیںپنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ
نزاکت محبوب کی ایک اہم صفت ہے ۔ شاعروں نے محبوب کی اس صفت کا بیان مبالغہ آمیز انداز میں کیا ہے اور اپنے تخیل کی زرخیزی کا ثبوت دیا ہے ۔ نزاکت سے محبوب کے حسن کا حد درجہ اظہار بھی مقصود ہوتا ہے ، ہمارا یہ انتخاب محبوب کی نزاکت کے حوالے سے آپ کے تمام تصورات کو توڑ دے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور محبوب کی ایک نئی تصویر ملاحظہ کیجئے ۔
नदामतنَدامَت
عربی
شرمندگی، خجالت، انفعال، شرمساری
क़दामतقَدامَت
قدیم ہونا ، پرانا پن، (کنایۃً) تعلق اور ربط ضبط کا قدیم اور استوار ہونا
नदामत होनाنَدامَت ہونا
شرمندگی ہونا ، خجالت ہونا ؛ افسوس ہونا ، ملال ہونا ۔
नदामत आनाنَدامَت آنا
شرمندگی محسوس ہونا ۔
اشک ندامت
ایم۔ اسلم
ناول
ندامت کے آنسو
خالد شاہین
قصہ / داستان
تحفۃ اللذات محبوبیہ (خوان نعمت آصفیہ)
غلام محبوب حیدرآبادی
دستر خوان
نغمات سماع
سید نورالحسن
شاعری
طب نبوی اور نباتات احادیث
ڈاکٹر اقتدار حسین فاروقی
اسلامیات
معارف النغمات
محمد نواب علی خان
موسیقی
النجمۃ السائرہ
سید سبط حسن
لسانیات
نباتات قرآن: ایک سائنسی جائزہ
تقابلی مطالعہ
تحقیقات نادرہ طبی
بشیر احمد گوپائموی
طب
باقیات و نادرات فیض احمد فیض
تقی عابدی
سوانح حیات
مومن کے اوصاف
ندوۃ المؤلفین ادارہ دعوۃ الحق، لاہور
ناتمام
محمد عاصم بٹ
سرسید احمد خاں
اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوںاپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے
ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کرجھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو
ماضی پہ ندامت ہو تمہیں یا کہ مسرتخاموش پڑا سوئے گا واماندۂ الفت
وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیںوہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں
دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھیتیرے لئے اٹھائی ندامت کہاں کہاں
اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھےتھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا
ایک آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فرازؔدل سے بے باک شناور کو ڈبویا کیسا
خود اپنے آپ کو پرکھا تو یہ ندامت ہےکہ اب کبھی اسے الزام بے وفائی نہ دوں
اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیںکہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں
تجھ کو کیا علم تجھے ہارنے والے کچھ لوگکس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books