aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naranju"
گوپی چند نارنگ
1931 - 2022
مصنف
گوکل چند نارنگ
مترجم
کے۔ ایس۔ نارنگ
نارنگ ساقی
اگرسین نارنگ
منمیت نارنگ
فن کار
کے۔ ایل۔ نارنگ
مدیر
چندر پرکاش نارنگ
شیام نارنگ
بہت ناراض ہے وہ اور اسے ہم سے شکایت ہےکہ اس ناراضگی کی بھی شکایت کیوں نہیں کرتے
عجیب شخص ہے ناراض ہو کے ہنستا ہےمیں چاہتا ہوں خفا ہو تو وہ خفا ہی لگے
جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی روداد یہ ہےاس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی
اے غم زندگی نہ ہو ناراضمجھ کو عادت ہے مسکرانے کی
तराज़ू تَرازُو
وزن کرنے کا آلہ جس کو کانٹا بھی کہتے ہیں، میزان، تَک، تکھڑی
فارسی
तराजु' تَراجُع
پھر جانا، آپس یں رجوع کرنا، منقلب ہونا؛ ستاروں کا مغرب سے مشرق کی طرف لوٹنا
तरज्जु' تَرَجُّع
اِدھر اُدھر حرکت کرنا
عربی
नाराज़ ناراض
ناخوش، خفا، برہم، آزردہ
اردو کی نئی کتاب
نصابی کتاب
ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات
تنقید
اردو زبان اور لسانیات
زبان
غالب
جدیدیت کے بعد
اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب
غزل تنقید
ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری
شاعری تنقید
ترقی پسندی جدیدیت مابعد جدیدیت
مضامین
اردو کی تعلیم کی لسانیاتی پہلو
فکشن شعریات تشکیل وتنقید
فکشن تنقید
ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات
لیٹس لرن اردو
سانحۂ کربلا بطور شعری استعارہ
کلیات ہندوی امیر خسرو
کلیات
اردو لینگویج اینڈ لیٹریچر
تحفہ زخموں کا مجھے بھیج دیا کرتا ہےمجھ سے ناراض ہے لیکن مجھے بھولا بھی نہیں
مری وعدہ خلافی پر وہ چپ ہےاسے ناراض ہونا چاہیے تھا
ہوا کو رازداں ہم نے بنایااور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے
ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیںسر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے
حسن یوں عشق سے ناراض ہے ابپھول خوشبو سے خفا ہو جیسے
میں کل سے ناراض ہوں قسم سے اور ایک کونے میں جا پڑی ہوںہاں میں غلط ہوں دکھاؤ پھر بھی تمہی جھکاؤ مجھے مناؤ
کیا جانے کس جہاں میں ملے گا ہمیں سکونناراض ہیں زمیں سے خفا آسماں سے ہم
دوست ناراض ہو گئے کتنےاک ذرا آئنہ دکھانے میں
کل نیند میں چراغ کو ناراض کر دیاسورج نے آج صبح جگایا نہیں مجھے
روٹھنا تیرا مری جان لیے جاتا ہےایسے ناراض نہ ہو ہنس کے دکھا دے مجھ کو
اس کی ناراضی کا سورج جب سوا نیزے پہ تھااپنے حرف عجز ہی نے سر پہ سایہ کر دیا
تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتاہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
فقط تم ہی نہیں ناراض مجھ سے جان جاناںمرے اندر کا انساں تک خفا ہے انتہا ہے
ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیںسر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر ہوتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books