aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "niimchaa"
نمرہ احمد
born.1990
مصنف
کرشن سونی نشا
نیما یوشیج
1895 - 1960
Nisha Kamlesh Kumar
نظیر نیشا پوری
نریندر کمار نشچل
مترجم
یہ ادا دیکھ کے کتنوں کا ہوا کام تمامنیمچہ کل جو ٹک اس عربدہ جو کا نکلا
ابھی تو تم نے کئے تھے ہماری جاں بخشیپھر ایک دم میں وہی نیمچا علم کا علم
نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں مارا
سچ کہو تقصیر کیا ہے عاشق مظلوم کینیمچا ترچھی نگہ کا کیوں علم ہونے لگا
خاک اڑ جاتی ہے ستھراو ادھر ہوتا ہےنیمچا کھینچ کے وہ باگ جدھر لیتے ہیں
नीमचा نِیمچَہ
(کنا یۃً) چھوٹا ، پست (بلحاظ قد) ۔
فارسی
नीमचा نِیمچا
چھوٹی تلوار
नीचा نِیچا
صفت۔ مذکر۔ نشیب، عمیق، گہرا، اوچھا، کم، ادنیٰ، مدھم، دھیما
سنسکرت
नीमचे نِیمچے
نیمچہ کی مغیرہ صورت نیز جمع، چھوٹی تلواریں یا خنجر
جنت کے پتے
ناول
اوپر نیچے اور درمیان
سعادت حسن منٹو
افسانہ
مصحف
دہلی اور اس کے اطراف ایک سفرنامہ اور روز نامچہ
حکیم سید عبدالحئی
سفر نامہ
ہوم گرل
دیوان غزلیات نظیری نیشاپوری
اردو شاعری کے نیم وادریچے
وارث کرمانی
دیوان غزلیات نظیری
دیوان
از صبا تا نیما
یحیی آرین پور
تاریخ
قراقرم کا تاج محل
میرے خواب میرے جگنو
سانس ساکن تھی
کوئی رسم بھی نہ نبھا سکا
سعد اللہ شاہ
روز نامچۂ سفر یورپ
راجہ خواجہ پرشاد بہادر
ڈائری
وہ اب نیمچا کر چکے ہیں الماجل آ چکی سر پہ کیوں کر ٹلے
دل بڑھا کر اس میں کھینچا آہ نے پھر نیمچہاے نظیرؔ آخر وہ اس کا نیمچہ بھی پٹ پڑا
قاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہوخنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو
چاندنی میں جب وہ نو خط نیمچہ لے ہاتھ میںماہ اس کو دیکھ لینے کی سپر لے منہ پہ آڑ
سر اس کے پاؤں سے نہیں اٹھتے ستم ہے میرؔگر خوش غلاف نیمچہ اس کا اگل پڑا
گردش میں ہے چشم زیر ابروکیا نیمچہ چرخ پر چڑھا ہے
نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گانیم جانوں کا ابھی کام رواں کیجئے گا
ہم تو تھے سرگرم پا بوسی خدا نے خیر کینیمچہ کل خوش غلاف اس کا اگل کر رہ گیا
نیمچہ ہاتھ میں مستی سے لہو سی آنکھیںسج تری دیکھ کے اے شوخ حذر ہم نے کیا
روح سے بڑھ کے ترا نیمچہ پیارا ہے مجھےرگ جاں سے تری تلوار کا ڈورا اچھا
کیا غضب تھی وہ جنبش ابروصاف جیسے کہ نیمچا مارا
خنجر ناز سے منظور جو تھا قتل مجھےنیمچہ میان سے قاتل کی نکلنے نہ دیا
قتل عشاق انہیں مد نظر رہتا ہےنیمچہ آٹھ پہر زیب کمر رہتا ہے
کیا غضب بھی وہ جنبش ابروصاف جس نے کہ نیمچا مارا
شہر میں چرچا ہے اب تیری نگاہ تیز کادو کرے دل کے تئیں یہ نیمچہ انگریز کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books