aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nusrat"
نصرت صدیقی
born.1942
شاعر
نصرت مہدی
born.1970
نصرت فتح علی خان
1948 - 1997
فن کار
نصرت گوالیاری
born.1938
نوشی گیلانی
born.1964
نصرت ہاشمی
نصرت چودھری
born.1955
مصنف
نصرت زہرا
born.1971
صبا نصرت
born.1936
خلیق الزماں نصرت
born.1952
ارتضی نشاط
نصرت عتیق گورکھپور
born.1975
نصرت مسعود
born.1965
آصفہ نشاط
بھول جانے کا مجھے مشورہ دینے والےیاد خود کو بھی نہ میں آؤں کچھ ایسا کر دے
رات کے لمحات خونی داستاں لکھتے رہےصبح کے اخبار میں حالات بہتر ہو گئے
میرے نالوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیںہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
کچھ احتیاط پرندے بھی رکھنا بھول گئےکچھ انتقام بھی آندھی نے بدترین لیے
چاند آسماں کا ہو یا زمین کا نصرتؔکون باز آتا ہے انگلیاں اٹھانے سے
نصرت فتح علی خان نے بےشمار قوالیاں اورغزلیں گا ئی ہیں، اور غزل گائیکی ہو یا قوالی دونوں میں اپنی آواز اور ہنر سے لوگوں کا دل جیتا ہے۔ اس انتخاب میں کچھ ایسی غزلیں پیش کی جا رہی ہیں جنہیں نصرت صاحب کی آواز نے زندہ کر دیا ہے۔ پڑھئے اور سر دھنیے ۔
नुसरत نُصرَت
مدد، معاونت، کمک
عربی, فارسی
नुसरत نُصرَۃ
हसरत حَسْرَت
افسوس، پشیمانی
عربی
फ़ुर्सत فُرْصَت
مہلت، موقع محل، وقت
مشہور اشعار گمنام شاعر
اشعار
برمحل اشعار اور ان کے ماخذ
انتخاب
احمد عقیل روبی
سوانح حیات
اردو غزل پر ترقی پسند ادبی تحریک کے اثرات
نصرت جہاں
شاعری تنقید
فیض احمد فیض
تنقید
برمحل اشعار اور ان کے مآخذ
لمحۂ موجود
فیض کی شاعری
نبض افسانہ
افسانہ تنقید
ہمارا ماحول اور ہماری ذمہ داری
جمال نصرت
ماحولیات
پیامی شاعری
نصرت اندرابی
شعرائے مہاراشٹر
ہندوستان کی نامور مسلم خواتین
نصرت ناہید، لکھنؤ
خراٹوں کا مشاعرہ
نصرت ظہیر
افسانہ
کوششیں چھوڑ دوں سبھی نصرتؔکام نکلیں اگر دعاؤں سے
اہل زمیں نے کون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایاکون سی نصرت ہم نے اس کے ہاتھ نہیں دیکھی
عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میںاس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں
میں اجنبی ہوں مگر تم کبھی جو سوچو گےکوئی قریب کا رشتہ ضرور نکلے گا
ہم نے خود پہنی ہے نصرتؔ یہ وفا کی زنجیرہم تو خود ہی کبھی آزاد نہیں ہونے کے
کچھ نوجوان شہر سے آئے ہیں لوٹ کراب داؤ پر لگی ہوئی عزت ہے گاؤں کی
اڑنے کی آرزو میں ہوا سے لپٹ گیاپتا وہ اپنی شاخ کے رشتوں سے کٹ گیا
کترا کے زندگی سے گزر جاؤں کیا کروںرسوائیوں کے خوف سے مر جاؤں کیا کروں
ایک سے دوسرا انسان جدا ہے نصرتؔہر جبیں پہ نئی تحریر پڑھی ہے میں نے
وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہےمرے ہر خواب پر اپنی حکومت چاہتا ہے
تمہیں احساس ہو جائے گا نصرتؔیہاں ہر آدمی تم سے بڑا ہے
فضا یہ امن و اماں کی سدا رکھیں قائمسنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی
جذبۂ نصرت جمہور کی بڑھتی رو میںملک اور قوم کی دیواریں نہیں رہ سکتیں
رباب چھیڑ غزل خواں ہو رقص فرما ہوکہ جشن نصرت محنت ہے جشن نصرت فن
عمل کا رد عمل وقت کا جواب ہوں میںقبول کیجئے قدرت کا انتخاب ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books